نفلنمازیں
نبیکریمصلیاللہعلیہوسلموترکےبعددونفلبیٹھکراَدافرماتےتھے
سوال:۔
تمام نفل جو کہ ہر نماز میں پڑھے جاتے ہیں، سب کے سب کھڑے ہوکر پڑھے جاتے ہیں، لیکن وتروں کے بعد دو نفل حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اکثر پڑھے ہیں، وہ بھی بیٹھ کر، کیا یہ دُرست ہے؟
جواب:۔
نفل بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے، وتر کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیٹھ کر نفل پڑھنا منقول ہے، مگر ایسا ایک آدھ بار ہوا، ہمیشہ کا معمول نہیں تھا۔(۱)
- (۱) وقد ثبت أنہ علیہ الصلٰوۃ والسلام شفع بعد الوتر روی الترمذی عن أُمّ سلَمۃ انہ علیہ السلام کان یصلی بعد الوتر رکعـتین وزاد ابن ماجۃ خفیـفـتین وھو جـالس۔ (حلبی کبیر ج:۱ ص:۴۲۴)۔ أیضًا: ھٰـذا الحدیث أخـذ بظـاھـرہ الأوزاعی وأحمد فیما حکاہ القاضی عنھما فأباحا رکعتین بعد الوتر جالسًا، وقال أحمد: لَا أفعلہ ولَا أمنعہ من قولہ۔ قال: وأنکرہ مالک، قلت: الصـواب أن ھـاتین الرکعـتین فعلھما صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بعد الوتر جالسًا لبیان جواز الصلٰوۃ بعد الوتر وبیان جواز النفل جالسًا، ولم یواظب علٰی ذالک بل فعلہ مرّۃ أو مرّتین أو مرّات قلیلۃ اھـ۔ (شرح الکامل للنووی علی الصحیح المسلم ج:۱ ص:۲۵۴، کتاب صلٰوۃ المسافرین وقصرھا، باب صلٰوۃ اللیل وعدد رکعات النبی صلی اللہ علیہ وسلم)۔

