نفلنمازیں
کیاوترکےبعدکےنفلبیٹھکرپڑھنازیادہبہترہے؟
سوال:۔
نفل نماز کھڑے ہوکر پڑھنے سے زیادہ، جبکہ بیٹھ کر پڑھنے سے تھوڑا ثواب ملتا ہے۔ ایک مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ وتر کے بعد جو دو نفل ہیں، ان کو کھڑے ہوکر پڑھنے کی بہ نسبت بیٹھ کر پڑھنے سے زیادہ ثواب ملتا ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان دو نفلوں کو تہجد کے وقت وتر کے بعد ہمیشہ بیٹھ کر ہی ادا فرمایا کرتے تھے۔ ان دو نفلوں کے بارے میں آپ فرمائیے گا کہ بیٹھ کر پڑھنا بہتر ہے یا کھڑے ہوکر؟
جواب:۔
ثواب تو ان نفلوں کے بیٹھ کر پڑھنے میں بھی آدھا ہی ملے گا۔(۱) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان نوافل کو ہمیشہ ادا نہیں فرماتے تھے، اور پھر تہجد کی نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام طویل ہوتا تھا، اس لئے نفل کبھی بیٹھ کر پڑھ لیتے تھے۔
- (۱) ویجوز التطوع قاعدًا بغیر عذر ۔۔۔إلخ۔ (حلبی کبیر ج:۱ ص:۲۷۰)۔ أیضًا: أکثر الصحابۃ ومن بعدھم من أھل العلم علٰی ترکھا اھـ۔ والمحققون من أکابرنا علٰی أن إتیانھا قیامًا أفضل اھـ۔ (إعلاء السُّنن ج:۶ ص:۱۰۹)۔ أیضًا: قلت: الصواب أن ھاتین الرکعتین فعلھما صلی اللہ علیہ وسلم بعد الوتر جالسنا لبیان جواز الصلٰوۃ بعد الوتر وبیان جواز النفل جالسًا، ولم یواظب علٰی ذالک بل فعلہ مرّۃ أو مرّتین أو مرات قلیلۃ۔ (شرح الکامل للنووی علٰی مسلم ج:۱ ص:۲۵۴)۔

