بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نفل‌نمازیں

وتر‌کے‌بعد‌دو‌رکعت‌نفل‌کی‌شرعی‌حیثیت

سوال:۔

میں نے آنجناب سے یہ دریافت کیا تھا کہ ’’آپ کے مسائل اور اُن کا حل‘‘ جلد دوم، میں صفحہ:۳۳۶ پر وتر کے بعد دو رکعت نفل پڑھنے کے بارے میں یہ عبارت درج ہے: ’’اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھنا ثابت ہے، مگر عام معمول وتر کے بعد نفل پڑھنے کا نہیں تھا، اس لئے اگر کوئی وتر کے بعد نفل پڑھتا ہے تو اسے منع نہ کیا جائے، البتہ عام لوگ یہ نفل بیٹھ کر پڑھتے ہیں، یہ غلط ہے، یہ نفل بھی کھڑے ہوکر پڑھنے چاہئیں۔‘‘ اس میں خط کشیدہ عبارت میں بیٹھ کر نفل پڑھنے کو غلط کہا گیا ہے، کیا شریعت میں ان نوافل کو کھڑے ہوکر پڑھنے کا خاص حکم ہے؟ کیونکہ نفل نمازیں بیٹھ کر بھی پڑھی جاسکتی ہیں، البتہ ثواب آدھا ملتا ہے، یا ایسا کرنا مکروہ ہے؟ یا سرے سے نماز ہی فاسد ہوجاتی ہے؟ آپ نے جواب میں تحریر فرمایا تھا: ’’اس عبارت میں واقعی سقم ہے، اس کی اصلاح نظرِ ثانی میں کردی جائے گی۔‘‘ اُمید ہے کہ آنجناب نے نظرِ ثانی فرمالی ہوگی، لہٰذا حتمی جواب مرحمت فرمائیں۔

جواب:۔

میں نے جو کہا تھا، اس کا مطلب یہی تھا کہ عام نفلوں کی طرح یہ نفل بھی ادا کئے جاسکتے ہیں، لوگوں کے طرزِ عمل سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان نفلوں کو بیٹھ کر ہی پڑھنا ضروری سمجھتے ہیں، یہ غلط ہے، بیٹھ کر پڑھنے کو ضروری نہ سمجھیں، پھر چاہے بیٹھ کر پڑھیں، چاہے کھڑے ہوکر پڑھیں۔ اور یہ مسئلہ بھی ذہن میں رکھیں کہ بیٹھ کر پڑھنے میں ثواب آدھا ملے گا۔(۱)

  1. (۱) حاشیہ گذشتہ: ویتنفل مع قدرتہ۔۔۔الخ ملاحظہ ہو۔