نفلنمازیں
وترکےبعدنفلپڑھنابدعتنہیں
سوال:۔
کیا وتر پڑھنے کے بعد نفل پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟ زید کہتا ہے کہ وتر کے بعد نفل پڑھنا بدعت ہے، کیا زید کا یہ کہنا دُرست ہے یا نہیں؟
جواب:۔
وتر کے بعد بیٹھ کر دو نفل پڑھنے کی احادیث، صحاح میں موجود ہیں، اس لئے اس کو بدعت کہنا مشکل ہے،(۱) البتہ وتر کے بعد اگر نفل پڑھنا چاہے تو ان کو بھی کھڑے ہوکر پڑھنا افضل ہے۔(۲)
- (۱) عن أُمّ سلَمۃ رضی اللہ عنھا أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یصلی بعد الوتر رکعتین، وقد روی نحو ھٰذا عن أبی اُمامۃ وعائشۃ وغیر واحد من أصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم۔ (سنن ترمذی ج:۱ ص:۱۰۸)۔ وأیضًا روایۃ عائشۃ مرفوعًا بسند صحیح۔ (بخاری ج:۱ ص:۱۵۵، ابن ماجۃ ص:۸۳، طحاوی ج:۱ ص:۲۰۲)، وأیضًا روایۃ ثوبان مرفوعًا بسند حسن۔ (دارمی ج:۱ ص:۳۱۲، طحاوی ج:۱ ص:۲۰۲، دارقطنی ج:۲ ص:۳۶)، وأیضًا روایۃ أبی اُمامۃ مرفوعًا بسند حسن۔ (طحاوی ج:۱ ص:۲۰۲، مسند أحمد ج:۵ ص:۲۶۰)۔
- (۲) ویتنفل مع قدرتہ علی القیام قاعدًا ۔۔۔ وفیہ أجر غیر النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی النصف إلّا بعذر۔ وفی الشامی ویؤیدہ حدیث البخاری من صلّٰی قائمًا فھو أفضل، ومن صلّٰی قاعدًا فلہ نصف أجر القائم ۔۔۔إلخ۔ (درمختار مع الشامی ج:۲ ص:۳۶، ۳۷، باب الوتر والنوافل، مبحث المسائل الستۃ عشریۃ)۔

