بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نفل‌نمازیں

وتر‌تہجد‌سے‌پہلے‌پڑھے‌یا‌بعد‌میں؟

سوال:۔

اگر وتر عشاء کی نماز کے بعد نہ پڑھے جائیں، بلکہ تہجد کی نماز کے ساتھ پڑھے جائیں، اس صورت میں پہلے تین رکعات وتر کی پڑھی جائیں، اور بعد میں تہجد کی رکعتیں یا پہلے تہجد کی رکعتیں پڑھیں اور بعد میں وتر کی تین رکعتیں؟ نیز یہ کہ تہجد کی رکعتیں اگر کبھی چار، کبھی چھ، کبھی آٹھ اور کبھی دس، بارہ پڑھی جائیں تو کوئی حرج تو نہیں؟

جواب:۔

اگر جاگنے کا بھروسا ہو تو وتر، تہجد کی نماز کے بعد پڑھنا افضل ہے، اس لئے اگر صبحِ صادق سے پہلے وقت میں اتنی گنجائش ہو کہ نوافل کے بعد وتر پڑھ سکے گا تو پہلے تہجد کے نفل پڑھے، اس کے بعد وتر پڑھے،(۱) اور اگر کسی دن آنکھ دیر سے کھلے اور یہ اندیشہ ہو کہ اگر نوافل میں مشغول ہوا تو کہیں وتر قضا نہ ہوجائیں تو ایسی صورت میں پہلے وتر کی تین رکعتیں پڑھ لے، پھر اگر صبحِ صادق میں کچھ وقت باقی ہو تو نفل بھی پڑھ لے، تہجد کی نماز کا ایک معمول تو مقرّر کرلینا چاہئے کہ اتنی رکعتیں پڑھا کریں گے، پھر اگر وقت کی وجہ سے کمی بیشی ہوجائے تو کوئی حرج نہیں۔

  1. (۱) وتأخیر الوتر إلٰی آخر اللیل لو اثق بالْإنتباہ وإلّا قبل النوم ۔۔۔إلخ۔ (درمختار مع تنویر الأبصار، کتاب الصلاۃ ج:۱ ص:۳۶۹، طبع ایچ ایم سعید)، وأیضًا ویستحب تأخیرہ إلٰی آخر اللیل ۔۔۔إلخ۔ (ھندیۃ ج:۱ ص:۱۱۱، کتاب الصلاۃ، الباب الثامن فی صلاۃ الوتر، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔