بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نفل‌نمازیں

نوافل‌کی‌وجہ‌سے‌فرائض‌کو‌چھوڑنا‌غلط‌ہے

سوال:۔

ہم لوگ یہاں جدہ میں رہتے ہیں، ہمارے اقامتی کمرے میں بعض احباب اکثر عشاء کی نماز گول کرجاتے ہیں، ان کا استدلال یہ ہے کہ ۱۷ رکعتیں کون پڑھے؟ ان کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھی ہوئی ہے کہ ۱۷ رکعتوں کے بغیر نماز ہی نہیں ہوتی، ہم لاکھ ان سے کہتے ہیں کہ ۹ رکعتیں پڑھ لیجئے، ۴ فرض، ۲ سنت، تین واجب (وتر)، لیکن وہ نہیں مانتے۔ چونکہ ۱۷ رکعتوں کی تکمیل ان کے لئے بوجھ محسوس ہوتی ہے، اس لئے پوری نماز ہی ترک کردیتے ہیں۔ براہِ کرم اس کی وضاحت فرمائیں کہ کیا واقعی ۱۷رکعتوں کے بغیر عشاء کی نماز نہیں ہوتی؟ کیا عشاء میں پوری ۱۷ رکعتیں پڑھنی ضروری ہیں؟ کیا صرف ۹ رکعتیں یعنی ۴ فرض، ۲ سنت اور ۳ واجب (وتر) پڑھنے سے عشاء کی نماز مکمل نہیں ہوگی؟

جواب:۔

عشاء کی ضروری رکعتیں تو اتنی ہیں جتنی آپ نے لکھی ہیں، یعنی ۴ فرض، ۲ سنت اور تین وتر واجب، کل ۹ رکعتیں۔ عشاء سے پہلے سنتیں اگر پڑھ لے تو بڑا ثواب ہے، نہ پڑھے تو کچھ حرج نہیں، اور وتر سے پہلے دو، چار رکعت تہجد کی نیت سے بھی پڑھ لے تو اچھا ہے، لیکن نوافل کو ایسا ضروری سمجھنا کہ ان کی وجہ سے فرائض و واجبات بھی ترک کردئیے جائیں، بہت غلط بات ہے۔