نفلنمازیں
مغربسےپہلےنفلپڑھناجائزہےمگرافضلنہیں
سوال:۔
ہمارے حنفی مذہب میں عصر کے فرض کے بعد اور مغرب کے فرض سے پہلے نفل پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ کیونکہ یہاں سعودیہ میں مغرب کی اَذان ہوتے ہی دو رکعت نفل پڑھتے ہیں، قرآن و سنت کی روشنی میں واضح کریں۔
جواب:۔
چونکہ مغرب کی نماز جلدی پڑھنے کا حکم ہے، اس لئے حنفیہ کے نزدیک مغرب سے پہلے نفل پڑھنا مناسب نہیں، گو جائز ہے، اس لئے خود تو نہ پڑھیں، مگر جو حضرات پڑھتے ہیں، انہیں منع نہ کریں۔(۱)
- (۱) عن منصور عن أبیہ قال: ما صلّٰی أبوبکر ولَا عمر ولَا عثمان الرکعتین قبل المغرب۔ (کنز العمال ج:۸ ص:۵۰، باب المغرب وما یتعلق بہ، طبع بیروت)، وأیضًا عن ابن عمر قال: ما رأیت أحدًا یصلیھما علٰی عھد النبی صلی اللہ علیہ وسلم وعن الخلفاء الأربعۃ وجماعۃ من الصحابۃ انھم کانوا لَا یصلونھما۔ (فتح الباری ج:۲ ص:۱۰۸، باب کم بین الأذان والْإقامۃ، وأیضًا فی الدر المختار مع الشامی ج:۱ ص:۳۶۹، وأیضًا إعلاء السنن ج:۲ ص:۵۸)۔

