نفلنمازیں
کیاظہر،عشاءاورمغربمیںبعدوالےنفلضروریہیں؟
سوال:۔
کیا ظہر، عشاء اور مغرب میں بعد والے نفل ان نمازوں میں شامل ہیں؟ کیا ان نفلوں کے بغیر یہ نمازیں ہوجائیں گی؟ کوئی شخص ان نفلوں کو ان نمازوں کا لازمی حصہ سمجھے اور ان نفلوں کے بغیر اپنی نمازوں کو ادھوری سمجھے کیا یہ بدعت میں شامل ہوگی؟
جواب:۔
ظہر سے پہلے چار اور ظہر کے بعد دو رکعتیں، اور مغرب و عشاء کے بعد دو دو رکعتیں تو سنتِ مؤکدہ ہیں، ان کو نہیں چھوڑنا چاہئے،(۱) اور عشاء کے بعد وتر کی رکعتیں واجب ہیں، ان کو بھی ترک کرنے کی اجازت نہیں۔(۲) باقی رکعتیں نوافل ہیں، اگر کوئی پڑھے تو بڑا ثواب ہے، اور نہ پڑھے تو کوئی حرج نہیں، ان کو ضروری سمجھنا صحیح نہیں۔(۳)
- (۱) السُّنّۃ رکعتان قبل الفجر وأربع قبل الظھر ورکعتان بعد المغرب وأربع قبل العشاء ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۱۴۶)، وأیضًا: وسنن مؤکدًا أربع قبل الظھر وأربع قبل الجمعۃ ورأبع بعدھا بتسلیمۃ ۔۔۔ ورکعتان قبل الصبح وبعد الظھر والمغرب والعشاء ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار مع الرد ج:۲ ص:۱۲، ۱۳، باب الوتر والنوافل)۔
- (۲) عن أبی حنیفۃ رضی اللہ عنہ فی الوتر ثلاث روایات ۔۔۔ وفی روایۃ واجب وھی آخر أقوالہ وھو الصحیح کذا فی محیط السرخسی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۱۰، وأیضًا فی الدر المختار مع الشامی ج:۱ ص:۳، ۴)۔
- (۳) والنفل ومنہ المندوب یثاب فاعلہ ولَا یسیٔ تارکہ ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۱ ص:۱۰۳، مطلب فی السُّنّۃ وتعریفھا)۔

