نفلنمازیں
تہجدکینمازباجماعتاداکرنادُرستنہیں
سوال:۔
مسئلہ یہ ہے کہ میں ایک جماعت میں ہوں، پچھلے دنوں رمضان میں تین دن کے لئے میں اِعتکاف میں بیٹھا، جماعت کے کہنے پر ہم لوگ ساری رات جاگتے اور عبادت کرتے، تہجد کے وقت یہ لوگ تہجد کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھتے ہیں، کیا یہ جائز ہے کہ تہجد کی نماز باجماعت پڑھی جائے؟ میں نے پوچھا تو کہتے ہیں کہ اس طرح تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پڑھائی ہے، جبکہ میں نے تو کہیں بھی نہیں سنا یا پڑھا کہ تہجد کی نماز باجماعت بھی پڑھی جاتی ہے۔
جواب:۔
اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک نوافل کی جماعت (جبکہ مقتدی دو تین سے زیادہ ہوں) مکروہ ہے، اس لئے تہجد کی نماز میں بھی جماعت دُرست نہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تراویح کی جماعت کرائی تھی، ورنہ تہجد کی نماز باجماعت ادا کرنے کا معمول نہیں تھا۔(۱)
- (۱) واعلم ان النفل بالجماعۃ علٰی سبیل التداعی مکروہ علٰی ما تقدم ما عدا التراویح ۔۔۔إلخ۔ (حلبی کبیر ص:۴۳۲، تتمات من النوافل، أیضًا: عالمگیری ج:۱ ص:۸۳، وأیضًا درمختار مع الشامی ج:۲ ص: ۴۸۔۴۹)۔

