بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نفل‌نمازیں

تہجد‌کا‌صحیح‌وقت‌کب‌ہوتا‌ہے؟

سوال:۔

تہجد میں ۸، ۱۰ یا ۱۲ رکعتیں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں، لیکن بعض مشائخ اور بزرگوں کے متعلق تحریر ہے کہ وہ رات رات بھر نفلیں پڑھتے تھے، کیا یہ نوافل تہجد میں شمار ہوتے تھے؟ تہجد کی صحیح تعداد کتنی رکعت ہے؟ اور اس کا صحیح وقت کون سا ہے؟

جواب:۔

سوکر اُٹھنے کے بعد رات کو جو نماز پڑھی جائے، وہ ’’تہجد‘‘ کہلاتی ہے۔(۱) رکعتیں خواہ زیادہ ہوں یا کم، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے چار سے بارہ تک رکعتیں منقول ہیں،(۲) اور اگر آدمی رات بھر نہ سوئے، ساری رات عبادت میں مشغول رہے تو کوئی حرج نہیں، اس کو قیامِ لیل اور تہجد کا ثواب ملے گا، مگر یہ عام لوگوں کے بس کی بات نہیں، اس لئے جن اکابر سے رات بھر جاگنے اور ذکر اور عبادت میں مشغول رہنے کا معمول منقول ہے، ان پر اعتراض تو نہ کیا جائے، اور خود اپنا معمول، اپنی ہمت و استطاعت کے مطابق رکھا جائے۔(۳)

  1. (۱) وأید بما فی معجم الطبرانی من حدیث الحجـاج بن عمـرو رضی اللہ عنہ قـال: یحسب أحـدکم إذا قـام مـن اللیل یصلی حتّی یصبح أنہ قد تھجد إنما التھجد المرأ یصلی الصلاۃ بعد رقدۃ ۔۔۔إلخ۔ (رد المحتار ج:۲ ص:۲۴، مطلب فی صلٰوۃ اللیل)۔ ۲۰۷
  2. (۲) حاشیہ گذشتہ: وفی روایۃ ۔۔۔الخ ملاحظہ فرمائیں۔
  3. (۳) وأقل ما ینبغی أن یتنفل باللیل ثمان رکعات کذا فی الجوھرۃ وفضلھا لَا یحصر قال تعالٰی: فلا تعلم نفس ما اُخفی لھم من قرّۃ أعین۔ وفی صحیح مسلم قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: علیکم بصلاۃ اللیل، فإنہ دأب الصالحین قبلکم وقربۃ إلٰی ربکم ومکفرۃ للسیئات ومنھاۃ عن الْإثم۔ (طحطاوی علٰی مراقی الفلاح ص:۲۱۷، فصل فی تحیۃ المسجد، وأیضًا: درمختار مع شامی ج:۲ ص:۲۵، ۲۶، عالمگیری ج:۱ ص:۵۹، إمداد الفتاویٰ ج:۱ ص:۳۰۹، ابن ماجۃ ص:۹۷)۔