نفلنمازیں
راتکےآخریحصےکیفضیلتاوراسکاتعین
سوال:۔
میں نے کتابوں میں پڑھا ہے کہ جب رات کا ایک تہائی حصہ باقی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ آسمان سے دُنیا پر نزولِ اِجلال فرماتے ہیں، اور جو دُعا کی جائے وہ قبول ہوتی ہے۔ ’’ایک تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے‘‘ سے مراد کتنے بجے ہیں؟ یعنی تین بجے، یا دو بجے؟ یعنی صحیح وقت کونسا ہے؟ اور یہ کہ وضو کرکے دو رکعت نفل پڑھنی چاہئے اور پھر دُعا مانگنی چاہئے یا کوئی اور طریقہ ہو؟ مہربانی فرماکر اپنے کالم کی اگلی اشاعت میں جواب ضرور دیں، منتظر رہوں گی، بے انتہا شکریہ۔
جواب:۔
غروبِ آفتاب سے صبح صادق تک کا وقت تین حصوں میں تقسیم کردیا جائے تو آخر تہائی مراد ہے۔ مثلاً: آج کل مغرب سے صبح صادق تک تقریباً ۹ گھنٹے کی رات ہوتی ہے، اور سوا ایک بجے تک دو تہائی رات گزر جاتی ہے، سوا ایک بجے سے صبح صادق تک وہ وقت ہے، جس کی فضیلت حدیث میں بیان کی گئی ہے۔(۱) اس وقت وضو کرکے چار سے لے کر بارہ رکعتوں تک جتنی اللہ تعالیٰ توفیق دے، نمازِ تہجد پڑھنی چاہئے،(۲) اس کے بعد جتنی دُعا مانگ سکیں، مانگیں۔
- (۱) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ینزل ربنا تبارک وتعالٰی کل لیلۃ إلی السماء الدنیا حین یبقی ثلث اللیل الآخر یقول: من یدعونی فأستجیب لہ! من یسألنی فأعطیہ! من یستغفرنی فأغفر لہ! متفق علیہ۔ (مشکٰوۃ ص:۱۰۹، الفصل الأوّل، باب التحریض علٰی قیام اللیل)۔
- (۲) ایضاً حوالہ بالا، نیز :وفی روایۃ: إن صلٰوتہ باللیل خمس عشرۃ رکعۃ ۔۔۔ وفی أخریٰ سبع عشرۃ ۔۔۔ کان یصلی صلی اللہ علیہ وسلم سبع عشرۃ رکعۃ من اللیل ۔۔۔إلخ۔ (معارف السنن ج:۴ ص:۱۳۳، بیان أکثر صلاتہ باللیل وأقل ما ثبت)۔ أیضًا ان ابن عباس أخبرہ أنہ بات عند میمونۃ وھی خالتہ ۔۔۔ ثم قام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إلی شنّ معلّقۃ فتوضأ فأحسن الوضوء ۔۔۔ ثم صلّی رکعتین ثم رکعتین ثم رکعتین ثم رکعتین ثم رکعتین ثم رکعتین ثم أوتر ثم اضطجع حتّٰی جآئہ المؤذّن فقام فصلی رکعتین ثم خرج فصلی الصبح۔ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۳۵، باب ما جاء فی الوتر)

