نفلنمازیں
تہجدکینمازکسعمرمیںپڑھنیچاہئے؟
سوال:۔
میرا سوال ہے کہ کیا تہجد صرف بوڑھے لوگ ہی پڑھ سکتے ہیں؟ اور تہجد کے نفل وغیرہ قضا نہیں کرنے چاہئیں؟ میری عمر ۴۵ سال سے اُوپر ہے، میں کبھی تہجد پڑھتی ہوں اور کبھی نہیں پڑھ سکتی۔
جواب:۔
تہجد پڑھنے کے لئے کسی عمر کی تخصیص نہیں، اللہ تعالیٰ توفیق دے ہر مسلمان کو پڑھنی چاہئے، اپنی طرف سے تو اہتمام یہی ہونا چاہئے کہ تہجد کبھی چھوٹنے نہ پائے، لیکن اگر کبھی نہ پڑھ سکے تب بھی کوئی گناہ نہیں، ہاں! جان بوجھ کر بے ہمتی سے نہ چھوڑے، اس سے بے برکتی ہوتی ہے۔(۱)
- (۱) ومن المندوبات صلاۃ اللیل حثت السنۃ الشریفۃ علیھا کثیرًا وأفادت إن لفاعلھا أجرًا کبیرًا ۔۔۔ وروی ابن خزیمۃ مرفوعًا علیکم بقیام اللیل فإنہ دأب الصالحین قبلکم وقربۃ إلٰی ربّکم ومکفرۃ للسیئات ومنھاۃ عن الْإثم۔ وروی الطبرانی مرفوعًا: لَا بد من صلاۃ بلیل ولو حلب شاۃ ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۵۶)، وفی الشامی: انہ یکرہ ترک تجھد اعتادہ بلا عذر ۔۔۔إلخ۔ (درمختار مع شامی ج:۲ ص:۲۵، باب الوتر والنوافل، مطلب فی صلاۃ اللیل)۔

