نفلنمازیں
کیاحضورصلیاللہعلیہوسلمپرتہجدفرضتھی؟
سوال:۔
میں بچوں کو قرآنِ کریم کی تعلیم دے رہا تھا کہ اچانک نماز کے بارے میں ایک مولانا نے بچوں کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ: ’’عام مسلمانوں پر پانچ نمازیں فرض ہیں، اور حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر چھ نمازیں فرض تھیں۔‘‘ اور نمازِ تہجد حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض بتائی، لہٰذا اس کے بارے میں تفصیلاً جواب دیں، آپ کی نوازش ہوگی۔
جواب:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر تہجد کی نماز فرض تھی یا نہیں؟ اس میں دو قول ہیں، اور اختلاف کا منشاء یہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں جب پنج گانہ نماز فرض نہیں ہوئی تھی، اس وقت تہجد کی نماز سب پر فرض تھی، بعد میں اُمت کے حق میں فرضیت منسوخ ہوگئی، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بھی فرضیت منسوخ ہوگئی یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہوا۔ اِمام قرطبیؒ اور علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ نے اس کو ترجیح دی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں بھی فرضیت باقی نہیں رہی، اس کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی پابندی فرماتے تھے، سفر و حضر میں تہجد فوت نہیں ہوتی تھی۔(۱)
- (۱) وقالت طائفۃ: کان فرضًا علیہ فلا تفید مواظبتہ علیہ السنۃ فی حقنا لٰـکن صرح ما فی مسلم وغیرہ عن عائشۃ أنہ کان فریضۃ ثم نسخ، ھٰذا خلاصۃ ما ذکرہ، ومفادہ إعتماد السنۃ فی حقنا، لأنہ صلی اللہ علیہ وسلم واظب علیہ بعد نسخ الفریضۃ، ولذا قال فی الحلیۃ: والأشبہ أنہ سُنّۃ۔ (درمختار مع الشامی ج:۲ ص:۲۴، مطلب فی صلاۃ اللیل، وأیضًا الجامع لأحکام القرآن (القرطبی) ج:۱۹ ص:۵۴ طبع مصر، تفسیر مظھری ج:۱۰ ص:۱۱۶، تحت آیۃ: ﵟ فَاقْرَؤُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ ﵞالمزّمّل)۔

