نفلنمازیں
حرمشریفمیںبھیفجروعصرکےبعدنفلنہپڑھے
سوال:۔
خانۂ کعبہ میں ہر وقت نفل ادا کئے جاسکتے ہیں یا نہیں؟ یعنی جب ہم عمرے کرتے ہیں تو کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نمازِ عصر کے بعد نفل نہیں ہوسکتے تو کیا ہم مقامِ ابراہیم پر دو رکعت نفل عصر کے بعد ادا نہ کریں؟
جواب:۔
بہت سی احادیث میں فجر اور عصر کے بعد نوافل کی ممانعت آئی ہے، اِمام ابوحنیفہؒ کے نزدیک ان احادیث کی بنا پر حرم شریف میں بھی فجر و عصر کے بعد نوافل جائز نہیں، جو شخص ان اوقات میں طواف کرے، اسے دوگانہ طواف سورج کے طلوع اور غروب کے بعد ادا کرنا چاہئے۔(۱)
- (۱) وفی التنویر (وکرہ نفل وکل ما کان واجبًا لغیرہ کمنذور ورکعتی طواف) وفی الشامیۃ تحت قولہ ورکعتی طواف ظاھرہ ولو کان الطواف فی ذٰلک الوقت المکروہ لم أرہ صریحًا ویدل علیہ ما أخرجہ الطحاوی فی شرح الآثار عن معاذ بن عفراء ’’أنہ طاف بعد العصر أو بعد صلاۃ الصبح ولم یصل فسئل عن ذٰلک، فقال: نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من صلاۃ بعد الصبح حتّٰی تطلع الشمس وعن صلاۃ بعد العصر حتّٰی تغرب الشمس‘‘ ثم رأیتہ مصرحًا بہ فی الحلیۃ وشرح اللباب۔ (الدر المختار مع الرد المحتار ج:۱ ص:۳۷۵، مطلب یشترط العلم بدخول الوقت)۔

