نفلنمازیں
فجرکیسنتوںکےبعدنوافلپڑھنا
سوال:۔
فجر کی اَذان کے بعد فجر کی سنتوں کے علاوہ کوئی اور نماز پڑھی جاسکتی ہے؟ مثلاً: قضا نماز، صلوٰۃ الحاجہ، یا دو نفل تحیۃ المسجد، یا دو نفل تحیۃ الوضوء؟ اس وقت میں ان نمازوں کے پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ اور اگر کوئی شخص ان مذکورہ نمازوں میں سے کوئی نماز پڑھ لے تو اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔
صبح صادق کے بعد فجر کی دو سنتوں کے علاوہ کوئی نفلی نماز جائز نہیں،(۱) نہ صلوٰۃ الحاجہ، نہ تحیۃ الوضوء، نہ تحیۃ المسجد، نہ کوئی اور نفل۔ اگر کسی نے پڑھ لی تو بُرا کیا، اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے۔ اس وقت قضا نماز پڑھنا جائز ہے، مگر گھر میں چھپ کر پڑھے، لوگوں کے سامنے قضا نماز پڑھنا جائز نہیں۔(۲)
- (۱) تسعۃ أوقات یکرہ فیھا النوافل ۔۔۔ فیجوز فیھا قضاء الفائتۃ منھا ما بعد طلوع الفجر قبل صلاۃ الفجر ۔۔۔ یکرہ فیہ التطوع بأکثر من سُنّۃ الفجر ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۵۲)۔ أیضًا: فصل: وقتان یصلی فیھما الفرض دون النفل، وأما بعد العصر وبعد الفجر فإنّما ینھٰی فیھما عن النوافل والنذور وصلٰوۃ الطواف ویجوز فیھما فعل الفرض، وذالک لما روی أبو سعید الخدری، ومعاذ بن عفرآء، وابن عمر، وأبو ھریرۃ رضی اللہ عنھم: أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم نھی عن صلٰوتین بعد الصبح وبعد الفجر۔ وفی حدیث ابن مسعود فی سؤال عمر بن عنبسۃ رضی اللہ عنھما النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن الأوقات: أن الصلاۃ باللیل مقبولۃ مشھودۃ حتّٰی تصلی الفجر، ثم اجتنب الصلٰوۃ حتّٰی ترتفع الشمس۔ وقال ابن عباس رضی اللہ عنھما حدثنی رجال مرضیون، وأرضاھم عمر رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نھٰی عن الصلٰوۃ بعد الفجر حتّٰی تطلع الشمس وبعد العصر حتّٰی تغرب۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۵۳۶، ۵۳۷، کتاب الصلاۃ)۔
- (۲) وینبغی أن لَا یطلع غیرہ علٰی قضائہ لأن التأخیر معصیۃ فلا یظھرھا ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۲ ص:۷۷)۔

