بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نفل‌نمازیں

صبحِ‌صادق‌کے‌بعد‌نوافل‌مکروہ‌ہیں

سوال:۔

ایک بزرگ نے مجھے صبح کی نماز کے وقت دو رکعت نفل پڑھنے کے لئے بتائے ہیں، وہ میں دو سال سے برابر پڑھ رہا ہوں، فجر کی سنتوں سے قبل دو رکعت نفل پڑھتا ہوں، ایک دُوسرے بزرگ نے فرمایا کہ تہجد کے بعد فجر کی سنتوں سے قبل سجدہ ہی حرام ہے، صحیح مسئلہ کیا ہے؟

جواب:۔

صبحِ صادق کے بعد سنتِ فجر کے علاوہ نوافل مکروہ ہیں، سنتوں سے پہلے بھی اور بعد بھی،(۱) اور جن صاحب نے یہ کہا کہ: ’’تہجد کے بعد اور فجر کی سنتوں سے قبل سجدہ ہی حرام ہے‘‘ یہ مسئلہ قطعاً غلط ہے، سنتِ فجر سے پہلے سجدۂ تلاوت کرسکتے ہیں اور قضا نمازیں بھی پڑھ سکتے ہیں،(۲) ہاں! صبحِ صادق کے بعد سنتِ فجر کے علاوہ اور نوافل جائز نہیں۔(۳)

  1. (۱) ویکرہ أن یتنفل بعد طلوع الفجر بأکثر من رکعتی الفجر، لأنہ علیہ السلام لم یزد علیھما مع حرصہ علی الصلٰوۃ۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۸۶، باب المواقیت)۔ أیضًا: ووقتان لَا یصلی فیھما نفل ویصلی فیھما الفرض بعد العصر حتّٰی تغرب الشمس وبعد الفجر حتّٰی تطلع الشمس ۔۔۔ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم لَا یتحریٰ أحدکم فیصلی عند طلوع الشمس ولَا عند غروبھا فإنھا تطلع بین قرنی شیطان۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۱ ص:۵۲۸)۔
  2. (۲) تسعۃ أوقات یکرہ فیھا النفل وما فی معناھما لَا الفرائض ھٰکذا فی النھایۃ والکفایۃ فیجوز فیھا قضاء الفائتۃ وصلاۃ الجنازۃ وسجدۃ التلاوۃ کذا فی فتاویٰ قاضیخان منھا ما بعد طلوع الفجر قبل صلاۃ الفجر کذا فی النھایۃ والکفایۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۵۲، الفصل الثالث فی بیان الأوقات التی لَا تجوز فیھا الصلاۃ وتکرہ فیھا)۔
  3. (۳) وکذا الحکم من کراھۃ نفل وواجب لغیرہ لَا فرض وواجب لعینہ بعد طلوع فجر سویٰ سنتہ لشغل الوقت بہ تقدیرا۔ (درمختار مع الشامی ج:۱ ص:۳۷۵، کتاب الصلاۃ، مطلب یشترط العلم بدخول الوقت)۔