نفلنمازیں
کیاسنتونوافلگھرپرپڑھناضروریہے؟
سوال:۔
ہمارے بھائی جان حال ہی میں سعودی عرب سے آئے ہیں، وہ ہمیں تاکید کرتے ہیں کہ صرف فرض نماز مسجد میں ادا کیا کریں اور باقی تمام سنت و نوافل گھر پر ادا کیا کرو، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ: ’’اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ اور اپنے گھروں میں نماز ادا کرو۔‘‘ لہٰذا ہم لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان اپنے بھائی جان کی زبانی سنا تو ہم بھی اسی پر عمل کر رہے ہیں، جس کا ہمیں حکم ملا ہے، آپ یہ تحریر فرمائیے کہ کیا سنت و نوافل گھر پر پڑھنا لازمی ہے؟
جواب:۔
یہ ’’حدیث‘‘ جس کا آپ کے بھائی جان نے حوالہ دیا ہے، صحیح ہے، اور اس حدیث شریف کی بنا پر سنن و نوافل کا گھر پر اَدا کرنا افضل ہے،(۱) لیکن شرط یہ ہے کہ گھر کا ماحول پُرسکون ہو اور آدمی گھر پر اطمینان کے ساتھ سنن و نوافل ادا کرسکے، لیکن گھر کا ماحول پُرسکون نہ ہو، جیسا کہ عام طور پر آج کل ہمارے گھروں میں مشاہدہ کیا جاتا ہے، تو سنن و نوافل کا مسجد میں ادا کرلینا ہی بہتر ہے۔(۲)
- (۱) عن ابن عمر رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اجعلوا فی بیوتکم من صلٰوتکم ولَا تتخذوھا قبورًا۔ متفق علیہ۔ (مشکٰوۃ ص:۶۹، الفصل الأوّل، باب المساجد ومواضع الصلاۃ)۔
- (۲) والأفضل فی النفل غیر التراویح المنزل إلّا لخوف شغل عنھا، والأصح أفضلیۃ ما کان أخشع وأخلص۔ (درمختار) وفی الشامی تحت قولہ والأفضل فی النفل ۔۔۔إلخ ۔۔۔ وحیث کان ھٰذا أفضل یراعی ما لم یلزمہ منہ خوف شغل عنھا لو ذھب لبیتہ، أو کان فی بیتہ ما یشغل بالہ ویقلل خشوعہ، فیصلیھا حینئذ فی المسجد، لأن إعتبار الخشوع أرجح۔ (درمختار مع الشامی ج:۲ ص:۲۲، باب الوتر والنوافل، مطلب فی الکلام علٰی حدیث النھی عن النذر)۔

