بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نفل‌نمازیں

نماز‌نفل‌اور‌سنتیں‌جہراً‌پڑھنا

سوال:۔

نماز نفل اور سنتیں جہراً پڑھ سکتے ہیں یا دونوں میں سے کوئی ایک؟ اگر نوافل یا سنتیں جہراً پڑھ لی جائیں تو سجدۂ سہو کرنا لازم ہوگا؟

جواب:۔

رات کی سنتوں اور نفلوں میں اختیار ہے کہ خواہ آہستہ پڑھے یا جہراً پڑھے، اس لئے رات کی سنتوں اور نفلوں میں جہراً پڑھنے سے سجدۂ سہو لازم نہیں ہوتا، دن کی سنتوں اور نفلوں میں جہراً پڑھنا دُرست نہیں، بلکہ آہستہ پڑھنا واجب ہے۔(۱) اور اگر بھول کر تین آیتیں یا اس سے زیادہ پڑھ لیں تو سجدۂ سہو لازم ہوگا یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے، قواعد کا تقاضا یہ ہے کہ سجدۂ سہو واجب ہونا چاہئے اور یہی احتیاط کا مقتضا ہے۔(۲)

  1. (۱) فإں کان متنفلًا إن کان فی النھار یخافت وإن کان فی اللیل یخیر بن الجھر والمخافۃ والجھر أفضل ۔۔۔إلخ۔ (خلاصۃ الفتاویٰ ج:۱ ص:۹۴، کتاب الصلاۃ، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔
  2. (۲) وقال فی الفتح: فحیث کانت المخافۃ واجبۃ علی المنفرد ینبغی أن یجب بترکھا السجود اھـ فتأمل۔ (شامی ج:۱ ص:۵۳۳، کتاب الصلاۃ، فصل القرائۃ)۔