نفلنمازیں
اِشراق،چاشت،اوّابیناورتہجدکیرکعات
سوال:۔
نوافل نمازوں مثلاً: اِشراق، چاشت، اوّابین اور تہجد میں کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ کتنی رکعات پڑھی جاسکتی ہیں؟
جواب:۔
نوافل میں کوئی پابندی نہیں، جتنی رکعتیں چاہیں پڑھیں، حدیث شریف میں ان نمازوں کی رکعات حسبِ ذیل منقول ہیں:اِشراق:۔ چار رکعتیں۔(۱)چاشت:۔ آٹھ رکعتیں۔(۲)
اَوّابین:۔ چھ رکعتیں۔(۳)تہجد:۔بارہ رکعتیں۔(۴)
۔۔۔الخ ملاحظہ فرمائیں۔
- (۱) عن معاذۃ قالت: سألت عائشۃ کم کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصلّی صلٰوۃ الضحٰی؟ قالت: أربع رکعات ویزید ما شاء اللہ۔ رواہ مسلم۔ (مشکٰوۃ ص: ۱۱۵، باب صلٰوۃ الضحٰی، الفصل الأوّل)۔
- (۲) گزشتہ حاشیہ: عن أمّ ھانی رضی اللہ عنھا قالت
- (۳) ایضاً حاشیہ گذشتہ: عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ۔۔الخ۔
- (۴) وفی روایۃ: إن صلٰوتہ باللیل خمس عشرۃ رکعۃ ۔۔۔ وفی أخریٰ سبع عشرۃ ۔۔۔ کان یصلی صلی اللہ علیہ وسلم سبع عشرۃ رکعۃ من اللیل ۔۔۔إلخ۔ (معارف السنن ج:۴ ص:۱۳۳، بیان أکثر صلاتہ باللیل وأقل ما ثبت)۔ أیضًا ان ابن عباس أخبرہ أنہ بات عند میمونۃ وھی خالتہ ۔۔۔ ثم قام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إلی شنّ معلّقۃ فتوضأ فأحسن الوضوء ۔۔۔ ثم صلّی رکعتین ثم رکعتین ثم رکعتین ثم رکعتین ثم رکعتین ثم رکعتین ثم أوتر ثم اضطجع حتّٰی جآئہ المؤذّن فقام فصلی رکعتین ثم خرج فصلی الصبح۔ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۱۳۵، باب ما جاء فی الوتر)۔

