بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نمازِ‌تراویح

بھولنے‌اور‌لقمہ‌نہ‌لینے‌والے‌قاری‌کا‌کیا‌کریں؟

سوال:۔

ہماری مسجد میں جو اِمام صاحب ہیں، وہ عالمِ دِین بھی ہیں، اور حافظ اور قاری بھی، جب وہ اس مسجد میں تراویح پڑھانے تشریف لائے تو بہت سہو ہوتا تھا، اس کی انہوں نے یہ تأویل کی کہ میں پہلے صرف چند اَفراد کی اِمامت کیا کرتا تھا، اور یہاں بہت بڑی تعداد نمازیوں کی ہوتی ہے، اس لئے (شاید گھبراہٹ میں) بھول ہوتی ہے۔ لیکن اب کم و بیش دس سال اِمامت وتراویح پڑھاتے ہوئے ہوگئے ہیں، سہو نسبتاً بڑھتا جاتا ہے، اگر کوئی دُوسرا حافظ (ان کے مقرّر کردہ سامع کے علاوہ) لقمہ دے تو قبول نہیں کرتے۔ اِنتظامیہ باوجود شکایت کے اپنے کو اس لئے مجبور پاتی ہے کہ ۱:۔مکان رہنے کو دِیا ہے، جو مسجد کی ملکیت ہے، ۲:۔شمالی علاقے سے تعلق ہے، انہوں نے اپنے ایک حلقے کو وسعت دے دی ہے، کم از کم اور کسی جھگڑے کے علاوہ مکان خالی نہ ہونے کا خطرہ لازمی محسوس کرتے ہیں، ان حالات میں مقتدی کیا کریں؟ گو اس مسجد میں بالائی منزل پر دُوسرے حافظ (کبھی نوآموز حافظ بھی) تراویح پڑھاتے ہیں، لیکن ضعیف لوگوں کو اُوپر چڑھنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ کیا اب وہ لوگ الم تر کیف سے علیحدہ اپنی تراویح پوری کرسکتے ہیں؟

جواب:۔

اگر قاری صاحب بہ کثرت بھولتے ہیں، اور پیچھے سے لقمہ بھی نہیں لیتے، تو ان کے بجائے دُوسرے آدمی کو مقرّر کرنا چاہئے۔(۱) لوگوں کا قرآن سننے سے محروم رہنا افسوس کی بات ہوگی۔ لیکن اگر قاری صاحب کے پیچھے کھڑے ہونے کا تحمل نہیں، تو اپنی تراویح کرالیا کریں، بہتر ہے کہ ان کے لئے کسی الگ جگہ جماعت کا اِنتظام کردیا جائے۔

  1. (۱) لَا ینبغی أن یقدموا فی التراویح الخوشخوان ولٰـکن یقدموا الدرستخوان ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۱۸، الباب التاسع فی النوافل)، ویکرہ الْإسراع فی القرائۃ وفی أداء الأرکان۔ (أیضًا ج:۱ ص:۱۱۸، فصل وأما شرائط الأرکان، کتاب الصلاۃ)۔