بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نمازِ‌تراویح

نفل‌کی‌نیت‌سے‌تراویح‌میں‌شامل‌ہونے‌والا‌بعد‌میں‌تراویح‌پڑھا‌سکتا‌ہے

سوال:۔

ایک قاری صاحب نے مسجد میں اِمام صاحب کے پیچھے رمضان المبارک میں تراویح میں نفل کی نیت سے سماعت کی، اور اس کے بعد خود بھی تراویح پڑھائی، کیا یہ طریقہ دُرست تھا؟

جواب:۔

قاری صاحب کا عمل صحیح تھا۔(۱)

  1. (۱) لَا بأس لغیر الْإمام أن یصلی فی مسجدین، لأنہ إقتداء المتطوع بمن یصلی السُّنّۃ وأنہ جائز کما لو صلی المکتوبۃ ثم أدرک الجماعۃ ودخل فیھا ۔۔۔إلخ۔ (بدائع ج:۱ ص:۲۹۰، فصل: وأما بیان سننھا أی التراویح)۔