نمازِتراویح
کیاحافظِقرآنعورت،عورتوںکیتراویحمیںاِمامتکرسکتیہے؟
سوال:۔
عورت اگر حافظ ہو کیا وہ تراویح پڑھا سکتی ہے؟ اور عورت کے تراویح پڑھانے کا کیا طریقہ ہے؟
جواب:۔
عورتوں کی جماعت مکروہِ تحریمی ہے، اگر کرائیں تو اِمام آگے کھڑی نہ ہو، جیسا کہ اِمام کا مصلیٰ الگ ہوتا ہے، بلکہ صف ہی میں ذرا کو آگے ہوکر کھڑی ہو،(۱) اور عورت تراویح سنائے تو کسی مرد کو (خواہ اس کا محرَم ہو) اس کی نماز میں شریک ہونا جائز نہیں۔(۲)
- (۱) ویکرہ تحریمًا جماعۃ النساء ولو التراویح ۔۔۔ فإن فعلن تقف الْإمام وسطھن ۔۔۔إلخ۔ (التنویر مع شرحہ ج:۱ ص:۵۶۵، عالمگیری ج:۱ ص:۸۵، حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح ص:۳۰۴)۔
- (۲) ولَا یجوز إقتداء رجل بإمرأۃ ھٰکذا فی الھدایۃ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۸۵، الباب الخامس فی الْإمامۃ)۔

