بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نمازِ‌تراویح

کیا‌تراویح‌کی‌قضا‌پڑھنی‌ہوگی؟

سوال:۔

جہاز پر ہماری ڈیوٹی رات آٹھ بجے سے بارہ بجے تک ہوتی ہے، اس وقت ہم میں سے اکثر لوگ صرف عشاء کی نماز قضا کرتے ہیں، کیا اس وقت ہم صرف عشاء پڑھیں یا قضا تراویح بھی پڑھ سکتے ہیں؟

جواب:۔

عشاء کا وقت صبحِ صادق تک باقی رہتا ہے، اگر آپ ڈیوٹی سے پہلے عشاء نہیں پڑھ سکتے تو ڈیوٹی سے فارغ ہوکر بارہ بجے کے بعد جب عشاء کی نماز پڑھیں گے تو ادا ہی ہوگی، کیونکہ عشاء کو اس کے وقت کے اندر آپ نے ادا کرلیا،(۱) اور تراویح کی نماز کا وقت بھی عشاء سے لے کر صبحِ صادق سے پہلے تک ہے، اس لئے آپ لوگ جب عشاء کی نماز پڑھیں تو تراویح بھی پڑھ لیا کریں، اس وقت تراویح بھی قضا نہیں ہوگی، بلکہ ادا ہی ہوگی۔(۲) اگر کوئی شخص صبحِ صادق سے پہلے تراویح نہیں پڑھ سکا، اس کی تراویح قضا ہوگئی، اب اس کی قضا نہیں پڑھ سکتا، کیونکہ تراویح کی قضا نہیں۔(۳)

  1. (۱) وأما آخر وقت العشاء فحین یطلع الفجر الصادق ۔۔۔إلخ۔ (البدائع الصنائع ج:۱ ص:۱۲۴، وأیضًا فی الدر مع الشامی ج:۱ ص:۳۶۱، مطلب فی الصلٰوۃ الوسطیٰ)۔
  2. (۲) وقال عامتھم وقتھا ما بعد العشاء إلٰی طلوع الفجر فلا تجوز قبل العشاء لأنھا تبع للعشاء ۔۔۔إلخ۔ (البدائع الصنائع ج:۱ ص:۲۸۸، وأیضًا در مختار مع الشامی ج:۲ ص:۴۴، باب الوتر والنوافل، مبحث صلاۃ التراویح)۔
  3. (۳) والصحیح أنھا لَا تقضی، لأنھا لیست بأکد من سنۃ المغرب والعشاء وتلک لَا تقضی وکذٰلک ھٰذہٖ۔ (البدائع الصنائع ج:۱ ص:۲۹۰، وأیضًا درمختار مع الشامی ج:۲ ص:۴۴، باب الوتر والنوافل، مبحث صلاۃ التراویح)۔