بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نمازِ‌تراویح

عشاء‌کے‌فرائض‌تراویح‌کے‌بعد‌ادا‌کرنے‌والے‌کی‌نماز‌کا‌کیا‌حکم‌ہے؟

سوال:۔

ایک صاحب عشاء کے وقت مسجد میں داخل ہوئے، تو عشاء کی نماز ختم ہوچکی تھی، تراویح شروع تھیں، یہ حضرت تراویح میں شامل ہوگئے، بعد از تراویح عشاء کی فرض نماز مکمل کی، آیا اس طرح نماز ہوگئی یا نہیں؟ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ قصداً ایسا نہیں کیا، بلکہ لاعلمی کی وجہ سے ایسا ہوا ہے۔

جواب:۔

جو شخص ایسے وقت آئے کہ عشاء کی نماز ہوچکی ہو، اس کو لازم ہے کہ پہلے عشاء کے فرض اور سنتِ مؤکدہ پڑھ لے، بعد میں تراویح کی جماعت میں شریک ہو، ان صاحب کی نمازِ تراویح نہیں ہوئی، تراویح کی نماز عشاء کے تابع ہے،(۱) اس کی مثال ایسے ہے جیسے بعد کی سنتیں کوئی شخص پہلے پڑھ لے تو ان کا لوٹانا ضروری ہوگا، مگر تراویح کی قضا نہیں۔(۲)

  1. (۱) ووقتہ أی وقت التراویح ۔۔۔ وقال القاضی الْإمام أبو علی النسفی الصحیح أن وقتھا (بعد العشاء) لَا تجوز قبلھا ۔۔۔إلخ۔ (حلبی کبیر ص:۴۰۳، طبع سھیل اکیڈمی لَاھور)۔
  2. (۲) وإذا فاتت التراویح لَا تقضی بجماعۃ والأصح إنھا لَا تقضی أصلًا ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۲ ص:۷۳، باب الوتر والنوافل، طبع دار المعرفۃ، بیروت، وأیضًا فی الدر مع الشامی ج:۲ ص:۴۴، مبحث صلٰوۃ التراویح)۔