نمازِتراویح
تراویحکیدُوسریرکعتمیںبیٹھنابھولجائےاورچارپڑھلےتوکتنیتراویحہوئیں؟
سوال:۔
دو رکعت نماز سنت تراویح کی نیت کرکے حافظ صاحب نے نماز شروع کی، دُوسری رکعت کے بعد تشہد میں نہیں بیٹھے، تیسری چوتھی رکعت پڑھی، پھر تشہد پڑھ کر سجدۂ سہو نکالا، نماز تراویح کی چاروں رکعت ہوگئیں یا دو سنت دو نفل یا چاروں نفل؟
جواب:۔
صحیح قول کے مطابق اس صورت میں تراویح کی دو رکعتیں ہوئیں:
’’فَلَوْ صَلَّى الْإِمَامُ أَرْبَعًا بِتَسْلِيمَةٍ وَلَمْ يَقْعُدْ فِي الثَّانِيَةِ، فَأَظْهَرَ الرِّوَايَتَيْنِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ عَدَمَ الْفَسَادِ، ثُمَّ اخْتَلَفُوا: هَلْ تَنُوبُ عَنْ تَسْلِيمَةٍ أَوْ تَسْلِيمَتَيْنِ؟ قَالَ أَبُو اللَّيْثِ: تَنُوبُ عَنْ تَسْلِيمَتَيْنِ، وَقَالَ أَبُو جَعْفَرٍ وَابْنُ الْفَضْلِ: تَنُوبُ عَنْ وَاحِدَةٍ، وَهُوَ الصَّحِيحُ، كَذَا فِي الظَّهِيرِيَّةِ وَالْخَانِيَّةِ وَفِي الْمُجْتَبَى، وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى۔‘‘ (البحر الرائق ج:۲ ص: ۷۲)

