نمازِتراویح
تراویحمیںاگرمقتدیکارُکوعچھوٹگیاتوکیااسکینمازہوجائےگی؟
سوال:۔
تراویح میں اِمام صاحب نے کہا کہ دُوسری رکعت میں سجدہ ہے، لیکن دُوسری رکعت میں اِمام نے نہ جانے کس مصلحت کی بنا پر سجدہ کی آیت تلاوت کرنے سے پہلے ہی رُکوع کرلیا، جبکہ مقتدی خاص طور پر جو کونوں اور پیچھے کی طرف تھے وہ دُوسری رکعت میں سجدہ کی بنا پر سجدہ میں چلے گئے، لیکن جب اِمام نے’’سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ‘‘ کہا تو وہ حیرت اور پریشانی میں کھڑے ہوئے اور اِمام ’’اللہ اکبر‘‘ کہتا ہوا سجدہ میں گیا تو مقتدی بھی سجدے میں چلے گئے، اور بقیہ نماز ادا کی۔ یعنی اِمام کی نماز تو دُرست رہی جبکہ مقتدیوں کا رُکوع چھوٹ گیا، اور انہوں نے سلام اِمام کے ساتھ ہی پھیرا، کیا مقتدیوں کی نماز دُرست ہوئی؟ اگر نہیں تو اس صورت میں مقتدیوں کو کیا کرنا چاہئے؟
جواب:۔
مقتدیوں کو چاہئے تھا کہ وہ اپنا رُکوع کرکے اِمام کے ساتھ سجدے میں شریک ہوجاتے، بہرحال رُکوع نماز میں فرض ہے، جب وہ چھوٹ گیا تو نماز نہیں ہوئی، ان حضرات کو چاہئے کہ اپنی دو رکعتیں قضا کرلیں۔(۱)
- (۱) (قولہ ومتابعتہ لِامامہ فی الفروض) أی بأن یأتی بما معہ أو بعدہ، حتی لو رکع إمامہ ورفع فرکع ھو بعد، صح بخلاف ما لو رکع قبل إمامہ ورفع ثم رکع إمامہ ولم یرکع ثانیًا مع إمامہ أو بعدہ بطلت صلٰوتہ ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۱ ص:۴۵۰، کتاب الصلاۃ، مطلب الخروج بصنعہ، طبع ایچ ایم سعید)۔

