نمازِتراویح
تراویحمیںختمِقرآنکاصحیحطریقہکیاہے؟
سوال:۔
تراویح میں جب قرآنِ پاک ختم کیا جاتا ہے تو بعض حفاظِ کرام آخری دوگانہ میں تین مرتبہ سورۂ اِخلاص، ایک مرتبہ سورۂ فلق، سورۃ الناس اور دُوسری رکعت میں البقرہ کا پہلا رُکوع پڑھتے ہیں، اور بعض حفاظ سورۂ اِخلاص کو صرف ایک مرتبہ پڑھتے ہیں اور آخری دو رکعتوں میں البقرہ کا پہلا رُکوع اور دُوسری رکعت میں سورۂ والصافات کی آخری آیات پڑھتے ہیں، ختمِ قرآن تراویح کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
جواب:۔
ویسے تو قرآن شریف سورۂ والناس پر ختم ہوجاتا ہے، لہٰذا اگر کوئی حافظ سورۃ الناس آخری رکعت میں پڑھیں اور سورۃ البقرہ شروع نہ کریں تو یہ دُرست ہے، لیکن جو حفاظِ کرام سورۃ الناس کے بعد بیسویں رکعت میں سورۃ البقرہ شروع کردیتے ہیں یا اُنیسویں رکعت میں سورۃ البقرہ اور بیسویں رکعت میں سورۂ والصافات کی آخری دُعائیہ آیات پڑھتے ہیں تو اگر اس طریقہ کو وہ لازمی نہیں سمجھتے ہیں تو اس طرح سے ختمِ قرآن کرنے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ سورۃ الناس کے بعد سورۃ البقرہ شروع کرنے میں اس بات کی طرف لطیف سا اشارہ ہوتا ہے کہ تلاوتِ قرآن میں تسلسل ہونا چاہئے، اور حدیث شریف میں اس کی تعریف آتی ہے کہ آدمی قرآنِ کریم ختم کرکے دوبارہ شروع کردے، اس لئے یہ بہتر ہے کہ ایک قرآن ختم کرکے فوراً دُوسرا قرآن شروع کردیا جائے، البتہ اس طریقہ کو اگر لازمی سمجھا جائے تو دُرست نہیں۔(۱)
- (۱) وفی الولوالجیۃ من یختم القرآن فی الصلٰوۃ إذا فرغ من المعوّذتین فی الرکعۃ الأولٰی یرکع ثم یقوم فی الرکعۃ الثانیۃ ویقرأ بفاتحۃ الکتاب وشیء من سورۃ البقرۃ لأن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: خیر الناس الحال المرتحل أی الخاتم المفتتح۔ (حلبی کبیر ص:۴۹۴، تتمات فیما یکرہ من القرآن فی الصلاۃ، طبع سھیل اکیڈمی)۔

