نمازِتراویح
تراویحمیںخلافِترتیبسورتیںپڑھیجائیںتوکیاسجدۂسہولازمہوگا؟
سوال:۔
تراویح میں أَلَمۡ تَرَ كَيۡفَسے قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِتک پڑھی جاتی ہیں، کیا ان کو سلسلے وار ہر رکعت میں پڑھا جائے؟ اگر بھول کر آگے پیچھے ہوجاتی ہے تو کیا سجدۂ سہو لازم ہوتا ہے یا نہیں؟
جواب:۔
نماز میں سورتوں کو قصداً خلافِ ترتیب پڑھنا مکروہ ہے، مگر اس سے سجدۂ سہو لازم نہیں آتا، اور اگر بھول کر خلافِ ترتیب پڑھ لے تو کراہت بھی نہیں۔(۱)
- (۱) وفی الدر: ویکرہ الفصل بسورۃ قصیرۃ وأن یقرأ منکوسًا ۔۔۔ ثم ذکر یتم وفی الشامیۃ (قولہ ثم ذکر یتم) أفاد أن التنکیس أو الفصل بالقصیرۃ إنما یکرہ إذا کان عن قصد فلو سھوًا فلا کما فی شرح المنیۃ۔ (الدر المختار مع الشامی ج:۱ ص:۵۴۶، ۵۴۷، باب صفۃ الصلاۃ، مطلب الْإستماع للقرآن فرض کفایۃ)۔

