بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نمازِ‌تراویح

رمضان‌کے‌چند‌دِن‌میں‌تراویح‌سننے‌والے‌بقیہ‌مہینے‌کی‌تراویح‌سے‌فارغ‌نہیں‌ہوجاتے

سوال:۔

اسلام نے نماز اور دیگر معمولات کو ایک نظام میں متعین کیا ہے اور وقت اور ادائیگیوں کے لئے ایک سسٹم ہے، پھر یہ کہ ہر جگہ خواہ وہ روڈ ہو، گلی ہو، ہر جگہ پانچ یا سات روز میں پورے مہینے کا کام نمٹادو اور اپنی اپنی دُکان داری میں لگ جاؤ، کیونکہ رمضان لوٹ کھسوٹ کا مہینہ ہے۔ میں نے اپنی زندگی کے تیس سال انڈیا میں ایسے نظام کو چلتے نہیں دیکھا۔

جواب:۔

نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، قربانی وغیرہ تمام عبادات کے اوقات وشرائط اِسلام نے مقرّر کئے ہیں۔ میں اُوپر لکھ چکا ہوں کہ تراویح کی نماز بھی پورے رمضان المبارک میں سنت مؤکدہ ہے، وہ تین یا پانچ یا سات دِن میں ادا نہیں ہوتی، البتہ قرآن مجید پورا سننے کی سنت اَدا ہوجاتی ہے، بشرطیکہ صحیح اور صاف پڑھا جائے۔ جو لوگ پانچ سات دن میں قرآنِ کریم سن کر پورے مہینے کے لئے فارغ ہوجاتے ہیں، وہ غلط کرتے ہیں۔ جو حفاظ پانچ سات دن میں قرآنِ کریم سناتے ہیں، ان پر لازم ہے کہ لوگوں کو یہ مسئلہ سمجھائیں کہ آپ لوگ پورے رمضان کی تراویح سے فارغ نہیں ہوگئے، بلکہ رمضان کی ہر رات کی تراویح آپ لوگوں کے ذمے لازم ہے۔(۱)

  1. (۱) لو حصل الختم ۔۔۔ لَا تترک التراویح فی بقیۃ الشھر لأنھا سُنّۃ کذا فی الجوھرۃ النیرۃ، الأصح أنہ یکرہ لہ الترک کذا فی السراج الوھاج۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۱۸، الباب التاسع فی النوافل، فصل فی التراویح)۔