بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نمازِ‌تراویح

کیا‌سات‌روزہ‌تراویح‌جائز‌ہے‌جبکہ‌تلفظ‌بھی‌صحیح‌نہیں‌ہوتا؟

سوال:۔

کیا پانچ روزہ یا سات روزہ تراویح اِبتدائے اسلام سے رائج ہے یا ہم نے اپنی سہولت کے لئے اسلامی قدروں کو اپنی مرضی سے ڈھال لیا؟ جبکہ تلفظ اور صحیح ادائیگی نہایت ضروری ہے، یہاں یہ پتا ہی نہیں چلتا کہ پیش اِمام صاحب کیا پڑھ رہے ہیںْ بس قرآن ختم ہوگیا پانچ دنوں میں۔

جواب:۔

تراویح کی نماز پورے رمضان المبارک کی سنتِ مؤکدہ ہے۔(۱) اور تراویح میں پورا قرآنِ کریم سننا ایک مستقل سنت ہے۔(۲) جو حضرات پانچ یا سات دن میں قرآن مجید سن لیتے ہیں، وہ تراویح کی نماز سے فارغ نہیں ہوجاتے، بلکہ پورے رمضان تراویح ادا کرنا ان کے ذمے رہتا ہے۔(۳)

تراویح میں قرآن سنانے کے لئے یہ شرط ہے کہ ایسا صاف پڑھا جائے کہ ایک ایک لفظ سمجھ میں آئے، جو لوگ اتنا تیز پڑھتے ہیں کہ کچھ پتا نہیں چلتا کہ کیا پڑھ رہے ہیں، وہ نہایت غلط کرتے ہیں، ان کا پڑھنا نہ پڑھنا برابر ہے، بلکہ اس طرح پڑھنا ثواب کے بجائے موجبِ وبال ہے۔(۴)

  1. (۱) ونفس التراویح سنۃ علی الأعیان عندنا کما روی الحسن عن أبی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالٰی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۱۶، کتاب الصلاۃ، الباب التاسع فی النوافل، فصل فی التراویح، طبع رشیدیہ)۔
  2. (۲) السُّنَّۃ فی التراویح إنما ھو الختم مرۃ فلا یترک لکسل القوم۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۱۷)۔
  3. (۳) لو حصل ختم لیلۃ التاسع عشر أو الحادی والعشرین لَا تترک التراویح فی بقیۃ الشھر لأنھا سُنّۃ کذا فی الجوھرۃ النیرۃ الأصح أنہ یکرہ الترک کذا فی السراج الوھاج۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۲۱، طبع رشیدیہ)۔
  4. (۴) ویکرہ الْإسراع فی القرائۃ وفی أداء الأرکان۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۱۷، فصل فی التراویح)۔