نمازِتراویح
دوتینراتوںمیںمکملقرآنکرکےبقیہتراویحچھوڑدینا
سوال:۔
میرے بعض دوست ایسے ہیں جو کہ رمضان کی شروع کی ایک رات یا تین راتوں میں پورا قرآن شریف تراویح میں سن لیتے ہیں اور پھر بقیہ دنوں میں تراویح نہیں پڑھتے، کیا یہ دُرست ہے؟ دُوسرے یہ کہ میں نے کچھ لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ پورا قرآن ایک رات میں سن کر باقی راتوں میں اِمام صاحب کے ساتھ فرض پڑھ کر تروایح خود اکیلے جلدی پڑھ لیتے ہیں، کیا یہ دُرست ہے؟
جواب:۔
تراویح پڑھنا مستقل سنت ہے، اور تراویح میں پورا قرآنِ کریم سننا الگ سنت ہے، جو شخص ان میں سے کسی ایک سنت کا تارک ہوگا وہ گناہگار ہوگا۔(۱)
- (۱) لو حصل الختم لیلۃ التاسع عشر أو الحادی والعشرین لَا تترک التراویح فی بقیۃ الشھر لأنھا سُنَّۃ کذا فی الجوھرۃ النیرۃ الأصح أنہ یکرہ لہ الترک کذا فی السراج الوھاج۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۱۸، کتاب الصلاۃ، فصل فی التراویح)۔

