نمازِتراویح
تراویحمیںرُکوعتکالگبیٹھےرہنامکروہفعلہے
سوال:۔
تراویح میں جب حافظ نیت باندھ کر قرأت کرتا ہے تو اکثر نمازی یونہی پیچھے بیٹھے یا ٹہلتے رہتے ہیں، اور جیسے ہی حافظ رُکوع میں جاتا ہے تو لوگ جلدی جلدی نیت باندھ کر نماز میں شریک ہوجاتے ہیں، یہ حرکت کہاں تک دُرست ہے؟
جواب:۔
تراویح میں ایک بار پورا قرآن مجید سننا ضروری اور سنتِ مؤکدہ ہے،(۱) جو لوگ اِمام کے ساتھ شریک نہیں ہوتے ان سے اتنا حصہ قرآنِ کریم کا فوت ہوجاتا ہے، اس لئے یہ لوگ نہ صرف ایک ثواب سے محروم رہتے ہیں، بلکہ نہایت مکروہ فعل کے مرتکب ہوتے ہیں، کیونکہ ان کا یہ فعل قرآنِ کریم سے اعراض کے مشابہ ہے۔(۲)
- (۱) السُّنّۃ فی التراویح إنما ھو الختم مرۃ فلا یترک لکسل القوم کذا فی الکافی۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۱۷، فصل فی التراویح)۔
- (۲) وفی البحر عن الخانیۃ یکرہ للمقتدی أن یقعد فی التراویح فإذا أراد الْإمام أن یرکع یقوم لأن فیہ إظھار التکاسل فی الصلاۃ والتشبہ بالمنافقین، قال تعالٰی: وإذا قاموا إلی الصلٰوۃ قاموا کسالٰی ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۲ ص:۴۸، کتاب الصلاۃ، مبحث صلاۃ التراویح، طبع سعید، البحر الرائق ج:۲ ص:۷۵، کتاب الصلاۃ)۔

