بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نمازِ‌تراویح

تراویح‌میں‌تیز‌رفتار‌حافظ‌کے‌پیچھے‌قرآن‌سننا‌کیسا‌ہے؟

سوال:۔

سورۃ مزمل کی ایک آیت کے ذریعہ تاکید کی گئی ہے کہ قرآن ٹھہر ٹھہر کر پڑھو، اس کے برعکس تراویح میں حافظ صاحبان اس قدر روانی سے پڑھتے ہیں کہ الفاظ سمجھ میں نہیں آتے، اگر وہ ایسا نہ کریں تو پورا قرآن وقتِ مقرّرہ پر ختم نہیں کرسکتے، باپ اور بیٹا دونوں حافظ ہیں، بیٹا باپ سے زیادہ روانی سے پڑھتا ہے، جس پر لوگوں نے باپ کو ’’حافظ ریل‘‘ اور بیٹے کو ’’حافظ انجن‘‘ کے لقب سے نوازا ہے، اور وہ اب اسی نام سے پہچانے جاتے ہیں، کیا تراویح میں اس طرح پڑھنا دُرست ہے؟

جواب:۔

تراویح کی نماز میں عام نمازوں کی نسبت ذرا تیز پڑھنے کا معمول تو ہے،(۱) مگر ایسا تیز پڑھنا کہ الفاظ صحیح طور پر ادا نہ ہوں، اور سننے والوں کو سوائے یعلمون تعلمون کے کچھ سمجھ نہ آئے، حرام ہے، ایسے حافظ کے بجائے الم تر کیف سے تراویح پڑھ لینا بہتر ہے۔(۲)

  1. (۱) وفی الدر: یقرأ فی الفرض بالترسل حرفًا حرفًا، وفی التروایح بین بین وفی الشامیۃ (قولہ بین بین) أی بأن تکون بین الترسل والْإسراع ۔۔۔إلخ۔ (در مختار مع الشامی ج:۱ ص:۵۴۱، فصل فی القرائۃ، طبع سعید)۔
  2. (۲) وشروط الْإمامۃ للرجال الأصحاء ستۃ أشیاء: الْإسلام ۔۔۔ والقرائۃ والسلامۃ من الأعذار کالرعاف الفأفأۃ والتمتمۃ واللثغ ۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ شامی، باب الْإمامۃ ج:۱ ص:۵۵۰)، وأیضًا ویکرہ الْإسراع فی القرائۃ ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۱۷، کتاب الصلاۃ، فصل فی التراویح، طبع رشیدیہ)۔