نمازِتراویح
معاوضہطےکرنےوالےحافظکیاِقتدامیںتراویحناجائزہے
سوال:۔
اکثر حافظ صاحبان جن کے کھانے کمانے کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا، وہ باقاعدہ معاوضہ طے کرکے پھر تراویح پڑھانے کے لئے تیار ہوتے ہیں، کیا ایسی صورت میں جبکہ روزگار وغیرہ نہ ہو قرآنِ عظیم کو ذریعۂ آمدنی بنانا جائز ہے؟
جواب:۔
اُجرت لے کر تراویح پڑھانا جائز نہیں، اور ایسے حافظ کے پیچھے تراویح مکروہِ تحریمی ہے، اس کے بجائے الم تر کیف کے ساتھ پڑھ لینا بہتر ہے۔(۱)
- (۱) وأن القرائۃ لشیء من الدنیا لَا تجوز وأن الآخذ والمعطی آثمان، لأن ذٰلک یشبہ الْإستئجار علی القرائۃ ونفس الْإستئجار علیھا لَا یجوز فکذا ما أشبہ ۔۔۔ ولَا ضرورۃ فی جواز الْإستئجار علی التلاوۃ ۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ شامی ج:۲ ص:۷۳)۔

