نمازِتراویح
داڑھیمنڈےحافظکیاِقتدامیںتراویحپڑھنامکروہِتحریمیہے
سوال:۔
داڑھی کترے حافظ کے پیچھے نماز خواہ فرض ہو یا تراویح کا کیا حکم ہے؟ کیونکہ آج کل تراویح میں عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ کئی حافظ حضرات چھوٹی اور بغیر داڑھی کے تراویح پڑھاتے ہیں، اگر ان سے یہ عرض کیا جائے کہ آپ نے داڑھی کیوں نہیں رکھی؟ تو وہ یہ کہتے ہیں کہ داڑھی کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے، اگر اہمیت ہوتی تو سعودی عرب میں چھوٹی چھوٹی داڑھی ہے، مصر کا ملک بھی مسلمان ہے، لوگ ۹۵ فیصد کتراتے اور منڈواتے ہیں۔ صحیح جواب سے نوازیں۔
جواب:۔
داڑھی رکھنا واجب ہے۔ منڈانا یا کترانا (جبکہ ایک مشت سے کم ہو) بالاتفاق حرام ہے،(۱) اور ایسے شخص کے پیچھے نماز، خواہ تراویح کی ہو پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے۔(۲) گناہ اگر عام ہوجائے تو وہ ثواب نہیں بن جاتا، گناہ ہی رہتا ہے، اس لئے سعودیوں یا مصریوں کا حوالہ غلط ہے۔
- (۱) ولذا یحرم علی الرجل قطع لحیتہ ۔۔۔إلخ۔ (درمختار مع الشامی ج:۶ :۴۰۷، کتاب الحظر والْإباحۃ) وأیضًا وأما الأخذ منھا وھی دون ذٰلک کما یفعلہ بعض المغاربۃ ومخنثۃ الرجال فلم یبحہ أحد وأخذ کلھا فعل یھود الھند ومجوس الأعاجم۔ (الدر المختار مع الشامی ج:۲ ص:۴۱۸، باب ما یفسد الصوم وما لَا یفسدہ، مطلب فی الأخذ من اللحیۃ)، وأیضًا: حلق کردن لحیہ حرام است وگزاشتن آں بقدر قبضہ واجب است۔ (اشعۃ اللمعات شرح مشکٰوۃ ج:۱ ص:۲۲۸)۔
- (۲) ویکرہ إمامۃ عبدٍ ۔۔۔ وفاسق۔ وفی الشامیۃ: أما الفاسق فقد عللوا کراھۃ تقدیمہ بأنہ لَا یھتم لأمر دینہ، وبأن فی تقدیمہ للإمامۃ تعظیمہ وقد وجب علیھم إھانتہ شرعًا۔ (رد المحتار علی الدر المختار ج:۱ ص:۵۶۰، باب الْإمامۃ)۔

