بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نمازِ‌تراویح

بیس‌رکعت‌تراویح‌کے‌عین‌سنت‌ہونے‌کی‌شافی‌علمی‌بحث

سوال:۔

ہمارے ایک دوست کہتے ہیں کہ تراویح کی آٹھ رکعتیں ہی سنت ہیں، کیونکہ صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جب دریافت کیا گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز رمضان میں کیسی ہوتی تھی؟ تو انہوں نے فرمایا کہ: آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان و غیر رمضان میں آٹھ رکعت سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے۔ نیز حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے صحیح روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعت تراویح اور وتر پڑھائے۔

اس کے خلاف جو روایت بیس رکعت پڑھنے کی نقل کی جاتی ہے وہ بالاتفاق ضعیف ہے، وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی گیارہ رکعت ہی کا حکم دیا تھا، جیسا کہ مؤطا اِمام مالکؒ میں سائب بن یزیدؓ سے مروی ہے، اور اس کے خلاف بیس کی جو روایت ہے، اوّل تو صحیح نہیں اور اگر صحیح بھی ہو تو ہوسکتا ہے کہ پہلے انہوں نے بیس پڑھنے کا حکم دیا ہو، پھر جب معلوم ہوا ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعت پڑھیں تو سنت کے مطابق آٹھ پڑھنے کا حکم دے دیا ہو۔ بہرحال آٹھ رکعت تراویح ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدینؓ کی سنت ہے، جو لوگ بیس رکعت پڑھتے ہیں، وہ خلافِ سنت کرتے ہیں۔ آپ فرمائیں کہ ہمارے دوست کی یہ بات کہاں تک دُرست ہے؟

جواب:۔

آپ کے دوست نے اپنے موقف کی وضاحت کردی ہے، میں اپنے موقف کی وضاحت کئے دیتا ہوں، ان میں کون سا موقف صحیح ہے؟ اس کا فیصلہ خود کیجئے! اس تحریر کو چار حصوں پر تقسیم کرتا ہوں:

۱:۔ تراویح عہدِ نبوی میں۔

۲:۔ تراویح عہدِ فاروقی میں۔

۳:۔ تراویح صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعینؒ کے دور میں۔

۴:۔ تراویح ائمہ اربعہؒ کے نزدیک۔

۱:۔ تراویح عہدِ نبوی میں:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدّد احادیث میں قیامِ رمضان کی ترغیب دی ہے، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے:

’’كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَأْمُرَهُمْ فِيهِ بِعَزِيمَةٍ، فَيَقُولُ: مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔ فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَمْرُ عَلَى ذٰلِكَ، ثُمَّ كَانَ الْأَمْرُ عَلَى ذٰلِكَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ۔‘‘(جامع الاصول ج:۹ ص:۴۳۹، بروایت بخاری و مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی، مؤطا)

ترجمہ:۔’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیامِ رمضان کی ترغیب دیتے تھے بغیر اس کے کہ قطعیت کے ساتھ حکم دیں، چنانچہ فرماتے تھے کہ: جس نے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت رکھتے ہوئے رمضان میں قیام کیا اس کے گزشتہ گناہ معاف ہوگئے۔ چنانچہ یہ معاملہ اسی حالت پر رہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا، پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی یہی صورتِ حال رہی، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے شروع میں بھی۔‘‘

ایک اور حدیث میں ہے:

’’إِنَّ اللّٰهَ فَرَضَ صِيَامَ رَمَضَانَ وَسَنَنْتُ لَكُمْ قِيَامَهُ، فَمَنْ صَامَهُ وَقَامَهُ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ۔‘‘(جامع الاصول ج:۹ ص:۴۴۱، بروایت نسائی)

ترجمہ:۔’’بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر رمضان کا روزہ فرض کیا ہے، اور میں نے تمہارے لئے اس کے قیام کو سنت قرار دیا ہے، پس جس نے ایمان کے جذبہ سے اور ثواب کی نیت سے اس کا صیام و قیام کیا، وہ اپنے گناہوں سے ایسا نکل جائے گا جیسا کہ جس دن اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔‘‘

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تراویح کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھنا بھی متعدّد احادیث سے ثابت ہے، مثلاً:

۱:۔ حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا، جس میں تین رات میں نماز پڑھنے کا ذکر ہے، پہلی رات میں تہائی رات تک، دُوسری رات میں آدھی رات تک، تیسری رات میں سحر تک (صحیح بخاری ج:۱ ص:۲۶۹)۔(۱)

۲:۔ حدیثِ ابی ذر رضی اللہ عنہ، جس میں ۲۳ویں رات میں تہائی رات تک، ۲۵ویں میں آدھی رات تک اور ۲۷ویں شب میں اوّل فجر تک قیام کا ذکر ہے (جامع الاصول ج:۶ ص:۱۲۰، بروایت ترمذی، ابوداؤد، نسائی)۔(۱)

۳:۔ حدیثِ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ، اس کا مضمون بعینہٖ حدیثِ ابی ذر رضی اللہ عنہ کا ہے (نسائی ج:۱ ص: ۲۳۸)۔(۲)

۴:۔ حدیثِ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، اس میں صرف ایک رات کا ذکر ہے (جامع الاصول ج:۶ ص:۱۱۸، بروایت بخاری ومسلم، ابوداؤد، نسائی)۔(۳)

۵:۔ حدیثِ انس رضی اللہ عنہ، اس میں بھی صرف ایک رات کا ذکر ہے (صحیح مسلم ج:۱ ص:۳۵۲)۔(۴)

لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی جماعت پر مدوامت نہیں فرمائی اور اس اندیشے کا اظہار فرمایا کہ کہیں تم پر فرض نہ ہوجائے، اور اپنے طور پر گھروں میں پڑھنے کا حکم فرمایا (حدیثِ زید بن ثابتؓ وغیرہ)۔(۵)

رمضان المبارک میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مجاہدہ بہت بڑھ جاتا تھا، خصوصاً عشرۂ اخیرہ میں تو پوری رات کا قیام معمول تھا، ایک ضعیف روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں اضافہ ہوجاتا تھا (فیض القدیر شرح جامع الصغیر ج:۵ ص:۱۳۲، وَفِيهِ عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ، قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: يُخْطِئُ كَثِيرًا)۔(۶)

تاہم کسی صحیح روایت میں یہ نہیں آتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک میں جو تراویح کی جماعت کرائی، اس میں کتنی رکعات پڑھائیں؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ صرف ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعات اور وتر پڑھائے(موارد الظمآن ص: ۲۲۶، قیام اللیل مروزی ص:۱۵۷، مکتبہ سبحانیہ، مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۷۲ بروایت طبرانی و ابویعلیٰ)۔(۷)

مگر اس روایت میں عیسیٰ بن جاریہ متفرد ہے، جو اہلِ حدیث کے نزدیک ضعیف اور مجروح ہے، جرح و تعدیل کے اِمام یحییٰ بن معینؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’لَیْسَ بِذَاك‘‘ یعنی وہ قوی نہیں، نیز فرماتے ہیں: ’’عِنْدَہٗ مَنَاکِیْرُ‘‘، یعنی اس کے پاس متعدد منکر روایتیں ہیں۔ اِمام ابوداؤدؒ اور اِمام نسائی ؒنے اسے ’’مُنْکِرُ الْحَدِیْثِ‘‘ کہا ہے، اِمام نسائی ؒنے اس کو متروک بھی بتایا ہے، ساجی و عقیلی نے اسے ضعفاء میں ذکر کیا ہے، ابنِ عدیؒ کہتے ہیں کہ: ’’اس کی حدیثیں محفوظ نہیں‘‘ (تہذیب التہذیب ج:۸ ص:۲۰۷، میزان الاعتدال ج:۳ ص:۳۱۱)۔(۸)

خلاصہ یہ کہ یہ راوی اس روایت میں متفرد بھی ہے، اور ضعیف بھی، اس لئے یہ روایت منکر ہے، اور پھر اس روایت میں صرف ایک رات کا واقعہ مذکور ہے، جبکہ یہ بھی احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آٹھ رکعتوں سے پہلے یا بعد میں تنہا بھی کچھ رکعتیں پڑھی ہوں، جیسا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت میں مذکور ہے (مجمع الزوائد ج:۳ ص:۳۰۴، بروایت طبرانی، وَقَالَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيْحِ)۔(۹)

دُوسری روایت مصنف ابنِ ابی شیبہؒ (ج:۲ ص:۳۹۴، نیز سننِ کبریٰ بیہقی ؒ ج:۲ ص:۴۹۶، مجمع الزوائد ج:۳ ص:۱۷۲) میں حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی ہے کہ: ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں بیس رکعتیں اور وتر پڑھا کرتے تھے۔‘‘ مگر اس کی سند میں ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان راوی کمزور ہے، اس لئے یہ روایت سند کے لحاظ سے صحیح نہیں،(۱۰) مگر جیسا کہ آگے معلوم ہوگا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اُمت کا تعامل اسی کے مطابق ہوا۔

تیسری حدیث اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ہے، جس کا سوال میں حوالہ دیا گیا ہے، مگر اس میں تراویح کا ذکر نہیں، بلکہ اس نماز کا ذکر ہے جو رمضان اور غیر رمضان میں ہمیشہ پڑھی جاتی ہے،(۱۱) اس لئے رکعاتِ تراویح کے تعین میں اس سے بھی مدد نہیں ملتی۔

چنانچہ علامہ شوکانی ؒنیل الاوطار میں لکھتے ہیں:

’’وَالْحَاصِلُ أَنَّ الَّذِي دَلَّتْ عَلَيْهِ أَحَادِيثُ الْبَابِ وَمَا يُشَابِهُهَا هُوَ مَشْرُوعِيَّةُ الْقِيَامِ فِي رَمَضَانَ وَالصَّلَاةُ فِيهِ جَمَاعَةً وَفُرَادَى، فَقَصْرُ الصَّلَاةِ الْمُسَمَّاةِ بِالتَّرَاوِيحِ عَلَى عَدَدٍ مُعَيَّنٍ وَتَخْصِيصُهَا بِقِرَاءَةٍ مَخْصُوصَةٍ لَمْ يَرِدْ بِهِ سُنَّةٌ۔‘‘ (نیل الاوطار ج:۴ ص:۶۴)

ترجمہ:۔’’حاصل یہ کہ اس باب کی حدیثیں اور ان کے مشابہ حدیثیں جس بات پر دلالت کرتی ہیں، وہ یہ ہے کہ رمضان میں قیام کرنا اور باجماعت یا اکیلے نماز پڑھنا مشروع ہے، پس تراویح کو کسی خاص عدد میں منحصر کردینا، اور اس میں خاص مقدار قرأت مقرّر کرنا ایسی بات ہے جو سنت میں وارد نہیں ہوئی۔‘‘

۲:۔ تراویح عہدِ فاروقی میں:

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تراویح کی باقاعدہ جماعت کا اہتمام نہیں تھا، بلکہ لوگ تنہا یا چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی شکل میں پڑھا کرتے تھے، سب سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو ایک اِمام پر جمع کیا (صحیح بخاری ج:۱ ص:۲۶۹، باب فضل من قام رمضان)۔(۱۲)

اور یہ خلافتِ فاروقی ؓ کے دُوسرے سال یعنی ۱۴ھ کا واقعہ ہے (تاریخ الخلفاء ص:۱۲۱، تاریخ ابنِ اثیر ج:۱ ص:۱۸۹)۔(۱۳)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں کتنی رکعتیں پڑھی جاتی تھیں؟ اس کا ذکر حضرت سائب بن یزید صحابی رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے، حضرت سائبؓ سے اس حدیث کو تین شاگرد نقل کرتے ہیں، ۱:حارث بن عبدالرحمن بن ابی ذباب، ۲:یزید بن خصیفہ، ۳: محمد بن یوسف، ان تینوں کی روایت کی تفصیل حسبِ ذیل ہے۔

۱:۔ حارث بن عبدالرحمن کی روایت علامہ عینیؒ نے شرحِ بخاری میں حافظ ابنِ عبدالبر کے حوالے سے نقل کی ہے:

’’قَالَ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ: وَرَوَى الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كَانَ الْقِيَامُ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بِثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ رَكْعَةً، قَالَ ابْنُ عَبْدِ الْبَرِّ: هٰذَا مَحْمُولٌ عَلَى أَنَّ الثَّلَاثَ لِلْوِتْرِ۔‘‘ (عمدۃ القاری ج:۱۱ ص:۱۲۷)

ترجمہ:۔’’ابنِ عبدالبر کہتے ہیں کہ حارث بن عبدالرحمن بن ابی ذباب نے حضرت سائب بن یزیدؓ سے روایت کی ہے کہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں ۲۳ رکعتیں پڑھی جاتی تھیں، ابنِ عبدالبر کہتے ہیں کہ: ان میں بیس تراویح کی اور تین رکعتیں وتر کی ہوتی تھیں۔‘‘

۲:۔ حضرت سائب کے دُوسرے راوی یزید بن خصیفہ کے تین شاگرد ہیں: ابنِ ابی ذئب، محمد بن جعفر اور اِمام مالک، اور یہ تینوں بالاتفاق بیس رکعتیں روایت کرتے ہیں۔

الف:۔ ابنِ ابی ذئب کی روایت اِمام بیہقی ؒکی سننِ کبریٰ میں درج ذیل سند کے ساتھ مروی ہے:

’’أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِاللّٰهِ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحُسَيْنُ بْنُ فَنْجُوَيْهِ الدِّينُورِيُّ بِالدَّامْغَان، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ السُّنِّي، أَنْبَأَنَا عَبْدُاللّٰهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِالْعَزِيزِ الْبَغَوِي، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كَانُوا يَقُومُونَ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِينَ رَكْعَةً، قَالَ: وَكَانُوا يَقْرَءُونَ بِالْمِئِينَ، وَكَانُوا يَتَوَكَّؤُونَ عَلَى عِصِيِّهِمْ فِي عَهْدِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ مِنْ شِدَّةِ الْقِيَامِ۔‘‘ (سننِ کبریٰ ج:۲ ص:۴۹۶)

’’یعنی ابنِ ابی ذئب، یزید بن خصیلہ سے، اور وہ حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں رمضان میں لوگ بیس رکعتیں پڑھا کرتے تھے، اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں شدّتِ قیام کی وجہ سے اپنی لاٹھیوں پر ٹیک لگاتے تھے۔‘‘

اس کی سند کو اِمام نوویؒ، اِمام عراقی ؒ اور حافظ سیوطیؒ نے صحیح کہا ہے۔

(آثار السنن ص:۲۵۱، طبع مکتبہ امدادیہ ملتان، تحفۃ الاحوذی ج:۲ ص:۷۵)

ب:۔ محمد بن جعفر کی روایت اِمام بیہقی ؒکی دُوسری کتاب معرفۃ السنن والآثار میں حسبِ ذیل سند سے مروی ہے:

’’أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثَنَا أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِالْوَهَّابِ، ثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كُنَّا نَقُومُ فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ بِعِشْرِينَ رَكْعَةً وَالْوِتْرَ۔‘‘ (نصب الرایۃ ج:۲ ص:۱۵۴)

’’یعنی محمد بن جعفر، یزید بن خصیفہ سے اور وہ سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ: ہم لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں بیس رکعات اور وتر پڑھا کرتے تھے۔‘‘

اس کی سند کو اِمام نوویؒ نے خلاصہ میں، علامہ سبکیؒ نے شرحِ منہاج میں اور علامہ علی قاریؒ نے شرحِ مؤطا میں صحیح کہا ہے (آثار السنن ج:۲ ص:۵۴، تحفۃ الاحوذی ج:۲ ص:۷۵)۔(۱۴)

ج:۔ یزید بن خصیفہ سے اِمام مالکؒ کی روایت حافظؒ نے فتح الباری میں اور علامہ شوکانی ؒنے نیل الاوطار میں ذکر کی ہے۔

حافظؒ لکھتے ہیں:

’’وَرَوَى مَالِكٌ مِنْ طَرِيقِ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عِشْرِينَ رَكْعَةً۔‘‘ (فتح الباری ج:۴ ص:۲۵۳، مطبوعہ لاہور)

ترجمہ:۔’’اور اِمام مالکؒ نے یزید بن خصیفہ کے طریق سے حضرت سائب بن یزید سے بیس رکعتیں نقل کی ہیں۔‘‘

اور علامہ شوکانی ؒ لکھتے ہیں:

’’وَفِي الْمُوَطَّإِ مِنْ طَرِيقِ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّهَا عِشْرُونَ رَكْعَةً۔‘‘ (نیل الاوطار ج:۳ ص:۵۳، مطبوعہ عثمانیہ، مصر ۱۳۵۷ھ)

’’مَالِك عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ‘‘ کی سند بعینہٖ صحیح بخاری ج:۱ ص:۳۱۲ پر موجود ہے، لیکن یہ روایت مجھے مؤطا کے موجودہ نسخے میں نہیں ملی، ممکن ہے کہ مؤطا کے کسی نسخے میں حافظؒ کی نظر سے گزری ہو، یا غیرمؤطا میں ہو، اور علامہ شوکانی ؒکا: ’’وَفِی الْمُؤَطَّا‘‘ کہنا سہو کی بنا پر ہو، فَلْیُفَتِّشْ!

۳:۔ حضرت سائب رضی اللہ عنہ کے تیسرے شاگرد محمد بن یوسف کی روایت میں ان کے شاگردوں کے درمیان اختلاف ہوا ہے، چنانچہ:

الف:۔ اِمام مالکؒ وغیرہ کی روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ نے اُبیّ اور تمیم داری کو گیارہ رکعتیں پڑھانے کا حکم دیا تھا، جیسا کہ مؤطا اِمام مالکؒ میں ہے (مؤطا اِمام مالکؒ ص:۹۸، مطبوعہ نور محمد کراچی)۔(۱۵)

ب:۔ ابنِ اسحاق ان سے تیرہ کی روایت نقل کرتے ہیں (فتح الباری ج:۴ ص:۲۵۴)۔(۱۶)

ج:۔ اور داؤد بن قیس اور دیگر حضرات ان سے اکیس رکعتیں نقل کرتے ہیں (مصنف عبدالرزاق ج:۴ ص: ۴۶۰)۔(۱۷)

اس تفصیل سے معلوم ہوجاتا ہے کہ حضرت سائب کے دو شاگرد حارث اور یزید بن خصیفہ اور یزید کے تینوں شاگرد متفق اللفظ ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بیس رکعات پر لوگوں کو جمع کیا تھا، جبکہ محمد بن یوسف کی روایت مضطرب ہے، بعض ان میں سے گیارہ نقل کرتے ہیں، بعض تیرہ اور بعض اکیس۔ اُصولِ حدیث کے قاعدے سے مضطرب حدیث حجت نہیں، لہٰذا حضرت سائب رضی اللہ عنہ کی صحیح حدیث وہی ہے جو حارث اور یزید بن خصیفہ رضی اللہ عنہ نے نقل کی ہے، اور اگر محمد بن یوسف کی مضطرب اور مشکوک روایت کو کسی درجے میں قابلِ لحاظ سمجھا جائے تو دونوں کے درمیان تطبیق کی وہی صورت متعین ہے جو اِمام بیہقی رحمہ اللہ نے ذکر کی ہے کہ گیارہ پر چند روز عمل رہا، پھر بیس پر عمل کا استقرار ہوا، چنانچہ اِمام بیہقی رحمہ اللہ دونوں روایتوں کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’وَیُمْکِنُ الْجَمْعُ بَیْنَ الرِّوَایَتَیْنِ، فَإِنَّهُمْ کَانُوا یَقُومُونَ بِإِحْدٰی عَشْرَۃَ، ثُمَّ کَانُوا یَقُومُونَ بِعِشْرِیْنَ، وَیُوتِرُونَ بِثَلٰثٍ۔‘‘ (سننِ کبریٰ ج:۲ ص:۴۹۶)

ترجمہ:۔’’دونوں روایتوں میں تطبیق ممکن ہے، کیونکہ وہ لوگ پہلے گیارہ پڑھتے تھے، اس کے بعد بیس رکعات تراویح اور تین وتر پڑھنے لگے۔‘‘

اِمام بیہقی رحمہ اللہ کا یہ ارشاد کہ عہدِ فاروقی ؓمیں صحابہؓ کا آخری عمل، جس پر استقرار ہوا، بیس تراویح تھا، اس پر متعدّد شواہد و قرائن موجود ہیں۔

اوّل:۔ اِمام مالکؒ جو محمد بن یوسف سے گیارہ کی روایت نقل کرتے ہیں، خود ان کا اپنا مسلک بیس یا چھتیس تراویح کا ہے، جیسا کہ چوتھی بحث میں آئے گا، اس سے واضح ہے کہ یہ روایت خود اِمام مالکؒ کے نزدیک بھی مختار اور پسندیدہ نہیں۔

دوم:۔ ابنِ اسحاق جو محمد بن یوسف سے تیرہ کی روایت نقل کرتے ہیں، وہ بھی بیس کی روایت کو اثبت کہتے ہیں، چنانچہ علامہ شوکانی ؒنے بیس والی روایت کے ذیل میں ان کا قول نقل کیا ہے:

’’قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَهٰذَا أَثْبَتُ مَا سَمِعْتُ فِي ذٰلِكَ‘‘(شوکانی، نیل الاوطار ج:۳ ص:۵۳)

ترجمہ:۔’’ابنِ اسحاق کہتے ہیں کہ: رکعاتِ تراویح کی تعداد کے بارے میں، میں نے جو کچھ سنا اس میں سب سے زیادہ ثابت یہی تعداد ہے۔‘‘

سوم:۔ یہ کہ محمد بن یوسف کی گیارہ والی روایت کی تائید میں دُوسری کوئی اور روایت موجود نہیں، جبکہ حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کی بیس والی روایت کی تائید میں دیگر متعدّد روایتیں بھی موجود ہیں، چنانچہ:

۱:۔ یزید بن رومان کی روایت ہے کہ:

’’کَانَ النَّاسُ یَقُومُونَ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي رَمَضَانَ بِثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ رَكْعَةً۔‘‘(مؤطا اِمام مالکؒ ص:۹۸، مطبوعہ نور محمد کراچی، سننِ کبریٰ ج:۲ ص:۴۹۶، قیام اللیل ص:۹۱، طبع جدید ص:۱۵۷)

ترجمہ:۔’’لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ۲۳ رکعتیں پڑھا کرتے تھے (بیس تراویح اور تین وتر)۔‘‘

یہ روایت سند کے لحاظ سے نہایت قوی ہے، مگر مرسل ہے، کیونکہ یزید بن رومان نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا، تاہم حدیثِ مرسل (جبکہ ثقہ اور لائقِ اعتماد سند سے مروی ہو) اِمام مالکؒ، اِمام ابوحنیفہؒ، اِمام محمدؒ اور جمہور علماء کے نزدیک مطلقاً حجت ہے، البتہ اِمام شافعیؒ کے نزدیک حدیثِ مرسل کے حجت ہونے کے لئے یہ شرط ہے کہ اس کی تائید کسی دُوسری مسند یا مرسل سے ہوئی ہو، چونکہ یزید بن رومان کی زیرِ بحث روایت کی تائید میں دیگر متعدّد روایات موجود ہیں، اس لئے یہ باتفاق اہلِ علم حجت ہے۔

یہ بحث تو عام مراسیل باب میں تھی، مؤطا کے مراسیل کے بارے میں اہلِ حدیث کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ سب صحیح ہیں۔

چنانچہ اِمام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ حجۃ اللہ البالغہ میں لکھتے ہیں:

’’قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَصَحُّ الْكُتُبِ بَعْدَ كِتَابِ اللّٰهِ مُوَطَّأُ مَالِكٍ، وَاتَّفَقَ أَهْلُ الْحَدِيثِ عَلَى أَنَّ جَمِيعَ مَا فِيهِ صَحِيحٌ عَلَى رَأْيِ مَالِكٍ وَمَنْ وَافَقَهُ، وَأَمَّا عَلَى رَأْيِ غَيْرِهِ فَلَيْسَ فِيهِ مُرْسَلٌ وَلَا مُنْقَطِعٌ إِلَّا قَدِ اتَّصَلَ السَّنَدُ بِهِ مِنْ طَرِيقٍ أُخْرَى، فَلَا جَرَمَ أَنَّهَا صَحِيحَةٌ مِنْ هٰذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ صُنِّفَ فِي زَمَانِ مَالِكٍ مُوَطَّآتٌ كَثِيرَةٌ فِي تَخْرِيجِ أَحَادِيثِهِ وَوَصْلِ مُنْقَطِعِهِ، مِثْلُ كِتَابِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، وَابْنِ عُيَيْنَةَ، وَالثَّوْرِيِّ، وَمَعْمَرٍ۔‘‘ (حجۃ اﷲ البالغہ ج:۱ ص:۱۳۳، مطبوعہ منیریہ)

ترجمہ:۔’’اِمام شافعیؒ نے فرمایا کہ کتاب اللہ کے بعد اصح الکتب مؤطا اِمام مالکؒ ہے، اور اہلِ حدیث کا اس پر اتفاق ہے کہ اس میں جتنی روایتیں ہیں، وہ سب اِمام مالکؒ اور ان کے موافقین کی رائے پر صحیح ہیں۔ اور دُوسروں کی رائے پر اس میں کوئی مرسل اور منقطع روایت ایسی نہیں کہ دُوسرے طریقوں سے اس کی سند متصل نہ ہو، پس اس لحاظ سے وہ سب کی سب صحیح ہیں، اور اِمام مالکؒ کے زمانے میں مؤطا کی حدیثوں کی تخریج کے لئے اور اس کے منقطع کو متصل ثابت کرنے کے لئے بہت سے مؤطا تصنیف ہوئے، جیسے ابنِ ابی ذئب، ابنِ عیینہ، ثوری اور معمر کی کتابیں۔‘‘

اور پھر بیس رکعات پر اصل استدلال تو حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہے جس کے ’’صحیح‘‘ ہونے کی تصریح گزر چکی ہے، اور یزید بن رومان کی روایت بطور تائید ذکر کی گئی ہے۔

۲:۔ یحییٰ بن سعید انصاری کی روایت ہے کہ:

’’إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَمَرَ رَجُلًا أَنْ يُصَلِّيَ بِهِمْ عِشْرِينَ رَكْعَةً۔‘‘ (مصنف ابنِ ابی شیبہ ج:۲ ص: ۳۹۳)

ترجمہ:۔’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ لوگوں کو بیس رکعتیں پڑھائے۔‘‘

یہ روایت بھی سنداً قوی، مگر مرسل ہے۔

۳:۔ عبدالعزیز بن رفیع کی روایت ہے:

’’كَانَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فِي رَمَضَانَ بِالْمَدِينَةِ عِشْرِينَ رَكْعَةً وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ۔‘‘ (مصنف ابنِ أبی شیبہ ج:۲ ص:۳۹۳)

ترجمہ:۔’’حضرت اُبیّ بن کعب رضی اللہ عنہ لوگوں کو مدینہ میں رمضان میں بیس رکعت تراویح اور تین وتر پڑھایا کرتے تھے۔‘‘

۴:۔ محمد بن کعب قرظی کی روایت ہے کہ:

’’كَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي رَمَضَانَ عِشْرِينَ رَكْعَةً، يُطِيلُونَ فِيهَا الْقِرَاءَةَ، وَيُوتِرُونَ بِثَلَاثٍ۔‘‘ (قیام اللیل ص:۹۱، طبع جدید ص: ۱۵۷)

ترجمہ:۔’’لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں رمضان المبارک میں بیس رکعتیں پڑھتے تھے، ان میں طویل قرأت کرتے اور تین وتر پڑھتے تھے۔‘‘

یہ روایت بھی مرسل ہے، اور قیام اللیل میں اس کی سند نہیں ذکر کی گئی۔

۵:۔ کنز العمال میں خود حضرت اُبیّ بن کعب رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ:

’’إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَمَرَهُ أَنْ يُصَلِّيَ بِاللَّيْلِ فِي رَمَضَانَ، فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ يَصُومُونَ النَّهَارَ وَلَا يُحْسِنُونَ أَنْ يَقْرَؤُوا، فَلَوْ قَرَأْتَ عَلَيْهِمْ بِاللَّيْلِ۔ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! هٰذَا شَيْءٌ لَمْ يَكُنْ۔ فَقَالَ: قَدْ عَلِمْتُ وَلَكِنَّهُ حَسَنٌ۔ فَصَلَّى بِهِمْ عِشْرِينَ رَكْعَةً۔‘‘ (کنز العمال طبع جدید بیروت ج:۸ ص:۴۰۹، حدیث: ۲۳۴۷۱)

ترجمہ:۔’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو حکم دیا کہ وہ رمضان میں لوگوں کو رات کے وقت نماز پڑھایا کریں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ: لوگ دن کو روزہ رکھتے ہیں، مگر خوب اچھا پڑھنا نہیں جانتے، پس کاش! تم رات میں ان کو قرآن سناتے۔ اُبیّ نے عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! یہ ایک ایسی چیز ہے جو پہلے نہیں ہوئی۔ فرمایا: یہ تو مجھے معلوم ہے، لیکن یہ اچھی چیز ہے۔ چنانچہ اُبیّ رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بیس رکعتیں پڑھائیں۔‘‘

چہارم:۔ مندرجہ بالا روایات کی روشنی میں اہلِ علم اس کے قائل ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو بیس رکعات پر جمع کیا، اور حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ان سے موافقت کی، اس لئے یہ بہ منزلہ اجماع کے تھا، یہاں چند اکابر کے ارشادات ذکر کئے جاتے ہیں:

اِمام ترمذیؒ لکھتے ہیں:

’’وَاخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ، فَرَأَى بَعْضُهُمْ أَنْ يُصَلِّيَ إِحْدَى وَأَرْبَعِينَ رَكْعَةً مَعَ الْوِتْرِ، وَهُوَ قَوْلُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هٰذَا عِنْدَهُمْ بِالْمَدِينَةِ، وَأَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى مَا رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ وَعُمَرَ وَغَيْرِهِمَا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِشْرِينَ رَكْعَةً، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ: وَهٰكَذَا أَدْرَكْتُ بِبَلَدِنَا بِمَكَّةَ يُصَلُّونَ عِشْرِينَ رَكْعَةً۔‘‘ (سننِ ترمذی ج:۱ ص:۹۹)

ترجمہ:۔’’تراویح میں اہلِ علم کا اختلاف ہے، بعض وتر سمیت اکتالیس رکعت کے قائل ہیں، اہلِ مدینہ کا یہی قول ہے اور ان کے یہاں مدینہ طیبہ میں اسی پر عمل ہے، اور اکثر اہلِ علم بیس رکعت کے قائل ہیں، جو حضرت علی، حضرت عمر اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں۔ سفیان ثوریؒ، عبداللہ بن مبارکؒ اور شافعیؒ کا یہی قول ہے، اِمام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ: میں نے اپنے شہر مکہ مکرمہ میں لوگوں کو بیس رکعات ہی پڑھتے پایا ہے۔‘‘

۲:۔ علامہ زرقانی مالکیؒ شرحِ مؤطا میں ابوالولید سلیمان بن خلف القرطبی الباجی المالکیؒ (متوفیٰ ۴۹۴ھ) سے نقل کرتے ہیں:

’’قَالَ الْبَاجِيُّ: فَأَمَرَهُمْ أَوَّلًا بِتَطْوِيلِ الْقِرَاءَةِ لِأَنَّهُ أَفْضَلُ، ثُمَّ ضَعُفَ النَّاسُ فَأَمَرَهُمْ بِثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ، فَخَفَّفَ مِنْ طُولِ الْقِرَاءَةِ، وَاسْتَدْرَكَ بَعْضَ الْفَضِيلَةِ بِزِيَادَةِ الرَّكَعَاتِ۔‘‘ (شرح زرقانی علی المؤطا ج:۱ ص:۲۳۹)

ترجمہ:۔’’باجیؒ کہتے ہیں کہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پہلے ان کو تطویلِ قرأت کا حکم دیا تھا کہ وہ افضل ہے، پھر لوگوں کا ضعف محسوس کیا تو ۲۳ رکعات کا حکم دیا، چنانچہ طولِ قرأت میں کمی کی اور رکعات کے اضافے کی فضیلت کی کچھ تلافی کی۔‘‘

’’قَالَ الْبَاجِيُّ: وَكَانَ الْأَمْرُ عَلَى ذٰلِكَ إِلَى يَوْمِ الْحَرَّةِ، فَثَقُلَ عَلَيْهِمُ الْقِيَامُ، فَنَقَصُوا مِنَ الْقِرَاءَةِ، وَزَادُوا الرَّكَعَاتِ، فَجُعِلَتْ سِتًّا وَثَلَاثِينَ غَيْرَ الشَّفْعِ وَالْوِتْرِ۔ ‘‘ (زرقانی شرح مؤطا ج:۱ ص:۲۳۹)

ترجمہ:۔’’باجیؒ کہتے ہیں کہ: یومِ حرہ تک بیس رکعات کا دستور رہا، پھر ان پر قیام بھاری ہوا تو قراء ت میں کمی کرکے رکعات میں مزید اضافہ کردیا گیا، اور وتر کے علاوہ ۳۶ رکعات ہوگئیں۔‘‘

۳:۔ علامہ زرقانی ؒنے یہی بات حافظ ابنِ عبدالبرؒ (۳۶۸ھ، ۴۶۳ھ) اور ابومروان عبدالملک بن حبیب القرطبی المالکیؒ (متوفیٰ ۲۳۷ھ) سے نقل کی ہے (زرقانی شرحِ مؤطا ج:۱ ص:۲۳۹)۔

۴:۔ حافظ موفق الدین ابنِ قدامہ المقدسی الحنبلیؒ (متوفیٰ ۶۲۰ھ) المغنی میں لکھتے ہیں:

’’وَلَنَا أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ لَمَّا جَمَعَ النَّاسَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ كَانَ يُصَلِّي لَهُمْ عِشْرِينَ رَكْعَةً۔‘‘

ترجمہ:۔’’ہماری دلیل یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب لوگوں کو ابیّ بن کعب رضی اللہ عنہ پر جمع کیا تو وہ ان کو بیس رکعتیں پڑھاتے تھے۔‘‘

اس سلسلے کی روایات، نیز حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اثر ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

’’وَھٰذَا کَالْإجْمَاعِ۔‘‘

ترجمہ:۔’’اور یہ بہ منزلہ اجماعِ صحابہؓ کے ہے۔‘‘

پھر اہلِ مدینہ کے ۳۶ رکعات کے تعامل کو ذکر کرکے لکھتے ہیں:

’’ثُمَّ لَوْ ثَبَتَ أَنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ كُلَّهُمْ فَعَلُوهُ، لَكَانَ مَا فَعَلَهُ عُمَرُ وَأَجْمَعَ عَلَيْهِ الصَّحَابَةُ فِي عَصْرِهِ أَوْلَى بِالِاتِّبَاعِ۔

قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِنَّمَا فَعَلَ هٰذَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ لِأَنَّهُمْ أَرَادُوا مُسَاوَاةَ أَهْلِ مَكَّةَ، فَإِنَّ أَهْلَ مَكَّةَ يَطُوفُونَ سَبْعًا بَيْنَ كُلِّ تَرْوِيحَتَيْنِ، فَجَعَلَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مَكَانَ كُلِّ سَبْعٍ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، وَمَا كَانَ عَلَيْهِ أَصْحَابُ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَى وَأَحَقُّ أَنْ يُتَّبَعَ۔‘‘ (ابنِ قدامہ، المغنی مع الشرح الکبیر ج:۱ ص:۷۹۹)

ترجمہ:۔’’پھر اگر ثابت ہو کہ اہلِ مدینہ سب چھتیس رکعتیں پڑھتے تھے تب بھی جو کام حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیا اور جس پر ان کے دور میں صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اجماع کیا، اس کی پیروی اَوْلیٰ ہوگی۔

بعض اہلِ علم نے کہا ہے کہ: اہلِ مدینہ کا مقصود اس عمل سے اہلِ مکہ کی برابری کرنا تھا، کیونکہ اہلِ مکہ دو ترویحوں کے درمیان طواف کیا کرتے تھے، اہلِ مدینہ نے طواف کی جگہ دو ترویحوں کے درمیان چار رکعتیں مقرّر کرلیں۔ بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کا جو معمول تھا وہی اَوْلیٰ اور احق ہے۔‘‘

۵:۔ اِمام محی الدین نوویؒ (متوفیٰ ۶۷۶ھ) شرح مہذب میں لکھتے ہیں:

’’وَاحْتَجَّ أَصْحَابُنَا بِمَا رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ وَغَيْرُهُ بِالْإِسْنَادِ الصَّحِيحِ عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ الصَّحَابِيِّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: كَانُوا يَقُومُونَ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِينَ رَكْعَةً۔ الْحَدِيثُ۔‘‘ (المجموع شرح مہذب ج:۴ ص:۳۲)

ترجمہ:۔’’ہمارے اصحاب نے اس حدیث سے دلیل پکڑی ہے جو اِمام بیہقی اور دیگر حضرات نے حضرت سائب بن یزید صحابی رضی اللہ عنہ سے بہ سندِ صحیح روایت کی ہے کہ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں رمضان المبارک میں بیس رکعتیں پڑھا کرتے تھے۔‘‘

آگے یزید بن رومانؓ کی روایت ذکر کرکے اِمام بیہقی رحمہ اللہ کی تطبیق ذکر کی ہے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اثر ذکر کرکے اہلِ مدینہ کے فعل کی وہی توجیہ کی ہے جو ابنِ قدامہؒ کی عبارت میں گزر چکی ہے۔

۶:۔ علامہ شہاب الدین احمد بن محمد قسطلانی شافعیؒ (متوفیٰ ۹۳۳ھ) شرحِ بخاری میں لکھتے ہیں:

’’وَجَمَعَ الْبَيْهَقِيُّ بَيْنَهُمَا بِأَنَّهُمْ كَانُوا يَقُومُونَ بِإِحْدٰى عَشْرَةَ، ثُمَّ قَامُوا بِعِشْرِينَ، وَأَوْتَرُوا بِثَلَاثٍ، وَقَدْ عَدُّوا مَا وَقَعَ فِي زَمَنِ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ كَالْإِجْمَاعِ‘‘ (ارشاد الساری ج:۳ ص:۴۲۶)

ترجمہ:۔’’اور اِمام بیہقی رحمہ اللہ نے ان دونوں روایتوں کو اس طرح جمع کیا ہے کہ وہ پہلے گیارہ پڑھتے تھے، پھر بیس تراویح اور تین وتر پڑھنے لگے، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جو معمول جاری ہوا اسے علماء نے بمنزلہ اجماع کے شمار کیا ہے۔‘‘

۷:۔ علامہ شیخ منصور بن یونس بہوتی حنبلی (متوفیٰ ۱۰۴۶ھ) ’’کشف القناع عن متن الاقناع‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’وَهِيَ عِشْرُونَ رَكْعَةً لِمَا رَوَى مَالِكٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَقُومُونَ فِي زَمَنِ عُمَرَ فِي رَمَضَانَ بِثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ رَكْعَةً۔۔۔ وَهٰذَا فِي مَظِنَّةِ الشُّهْرَةِ بِحَضْرَةِ الصَّحَابَةِ فَكَانَ إِجْمَاعًا۔‘‘ (کشف القناع عن متن الاقناع ج:۱ ص:۳۹۲)

ترجمہ:۔’’تراویح بیس رکعت ہیں، چنانچہ اِمام مالکؒ نے یزید بن رومانؒ سے روایت کیا ہے کہ: لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں رمضان میں ۲۳ رکعتیں پڑھا کرتے تھے ۔۔۔ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا صحابہؓ کی موجودگی میں بیس کا حکم دینا عام شہرت کا موقع تھا، اس لئے یہ اجماع ہوا۔‘‘

۸:۔ مسند الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ’’حجۃ اللہ البالغہ‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’وَزَادَتِ الصَّحَابَةُ وَمَنْ بَعْدَهُمْ فِي قِيَامِ رَمَضَانَ ثَلَاثَةَ أَشْيَاءَ: الِاجْتِمَاعَ لَهُ فِي مَسَاجِدِهِمْ، وَذٰلِكَ لِأَنَّهُ يُفِيدُ التَّيْسِيرَ عَلَى خَاصَّتِهِمْ وَعَامَّتِهِمْ، وَأَدَاؤُهُ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ مَعَ الْقَوْلِ بِأَنَّ صَلَاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَشْهُودَةٌ وَهِيَ أَفْضَلُ، كَمَا نَبَّهَ عُمَرُ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ لِهٰذَا التَّيْسِيرِ الَّذِي أَشَرْنَا إِلَيْهِ، وَعَدَدُهُ عِشْرُونَ رَكْعَةً۔‘‘ (حجۃ اﷲ البالغہ ج:۲ ص:۱۸)

ترجمہ:۔’’اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ان کے بعد کے حضرات نے قیامِ رمضان میں تین چیزوں کا اضافہ کیا۔ ۱: اس کے لئے مساجد میں جمع ہونا، کیونکہ اس سے عام و خاص کو آسانی حاصل ہوتی ہے۔ ۲:اوّل شب میں ادا کرنا، باوجود اس بات کے قائل ہونے کے کہ آخرِ شب کی نماز میں فرشتوں کی حاضری ہوتی ہے، اور وہ افضل ہے، جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر متنبہ فرمایا، مگر اوّل شب کا اختیار کرنا بھی اسی آسانی کے لئے تھا جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا۔ ۳:بیس رکعات کی تعداد۔‘‘

۲:۔ تراویح عہدِ صحابہؓ و تابعینؒ میں:

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بیس تراویح کا معمول شروع ہوا تو بعد میں کم از کم بیس کا معمول رہا، بعض صحابہ رضی اللہ عنہم و تابعینؒ سے زائد کی روایات تو مروی ہیں، لیکن کسی سے صرف آٹھ کی روایت نہیں۔

۱:۔ حضرت سائب رضی اللہ عنہ کی روایت اُوپر گزر چکی ہے، جس میں انہوں نے عہدِ فاروقیؓ میں بیس کا معمول ذکر کرتے ہوئے اسی سیاق میں عہدِ عثمانیؓ کا ذکر کیا ہے۔

۲:۔ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ جن کا وصال عہدِ عثمانی کے اواخر میں ہوا ہے، وہ بھی بیس پڑھا کرتے تھے (قیام اللیل ص:۹۱، طبع جدید ص:۱۵۷)۔(۱۸)

۳:۔ ’’عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمٰنِ السُّلَمِيِّ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ أَنَّهُ دَعَا الْقُرَّاءَ فِي رَمَضَانَ، فَأَمَرَ مِنْهُمْ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ عِشْرِينَ رَكْعَةً، وَكَانَ عَلِيٌّ يُوتِرُ بِهِمْ۔‘‘ (سننِ کبریٰ بیہقی ج:۲ ص:۴۹۶)

ترجمہ:۔’’ابوعبدالرحمن سلمی کہتے ہیں کہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رمضان میں قاریوں کو بلایا، پس ان میں ایک شخص کو حکم دیا کہ بیس رکعتیں پڑھایا کرے، اور وتر حضرت علی رضی اللہ عنہ خود پڑھایا کرتے تھے۔‘‘

اس کی سند میں حماد بن شعیب پر محدثین نے کلام کیا ہے، لیکن اس کے متعدّد شواہد موجود ہیں۔

ابوعبدالرحمن سلمی کی یہ روایت شیخ الاسلام حافظ ابنِ تیمیہؒ نے منہاج السنۃ میں ذکر کی ہے اور اس سے استدلال کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی جاری کردہ تراویح کو اپنے دورِ خلافت میں باقی رکھا (منہاج السنۃ ج:۴ ص:۲۲۴)۔(۱۹)

حافظ ذہبیؒ نے المنتقٰی مختصر منہاج السنّۃ (المنتقٰی ص: ۵۴۲) میں حافظ ابنِ تیمیہؒ کے اس استدلال کو بلانکیر ذکر کیا ہے، اس سے واضح ہے کہ ان دونوں کے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ کے عہد میں بیس رکعات تراویح کا معمول جاری تھا۔

۴:۔ ’’عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ أَنَّ عَلِيًّا أَمَرَ رَجُلًا يُصَلِّيَ بِهِمْ فِي رَمَضَانَ عِشْرِينَ رَكْعَةً۔‘‘ (مصنف ابنِ ابی شیبہ ج:۲ ص:۳۹۳)

ترجمہ:۔’’عمرو بن قیس، ابوالحسناء سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ لوگوں کو رمضان میں بیس رکعتیں پڑھایا کرے۔‘‘

۵:۔ ’’عَنْ أَبِي سَعْدٍ الْبَقَّالِ عَنْ أَبِي الْحَسْنَاءِ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ أَمَرَ رَجُلًا أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ خَمْسَ تَرْوِيحَاتٍ عِشْرِينَ رَكْعَةً، وَفِي هٰذَا الْإِسْنَادِ ضَعْفٌ۔‘‘ (سننِ کبریٰ بیہقی ج:۲ ص:۴۹۵)

ترجمہ:۔’’ابوسعد بقال، ابوالحسناء سے نقل کرتے ہیں کہ: حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو حکم دیا کہ لوگوں کو پانچ ترویحے یعنی بیس رکعتیں پڑھایا کرے۔ اِمام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: اس کی سند میں ضعف ہے۔‘‘

علامہ ابن الترکمانی ’الجوہر النقی‘‘ میں لکھتے ہیں کہ: ظاہر تو یہ ہے کہ اس سند کا ضعف ابوسعد بقال کی وجہ سے ہے، جو متکلم فیہ راوی ہے، لیکن مصنف ابنِ ابی شیبہ کی روایت میں (جو اُوپر ذکر کی گئی ہے) اس کا متابع موجود ہے، جس سے اس کے ضعف کی تلافی ہوجاتی ہے (ذیل سننِ کبریٰ ج:۲ ص:۴۹۵)۔(۲۰)

۶:۔ ’’عَنْ شَتِيرِ بْنِ شَكْلٍ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يُؤُمُّهُمْ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ بِعِشْرِينَ رَكْعَةً، وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ۔‘‘ (سننِ کبریٰ ج:۲ ص:۴۹۶، قیام اللیل ص:۹۱، طبع جدید ص:۱۵۷)

ترجمہ:۔’’شتیربن شکل، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اصحاب میں سے تھے، رمضان المبارک میں لوگوں کو بیس رکعت تراویح اور تین وتر پڑھایا کرتے تھے۔‘‘

اِمام بیہقی رحمہ اللہ نے اس اثر کو نقل کرکے کہا ہے: ’’وفی ذٰلک قوّۃ‘‘ (اور اس میں قوّت ہے)، پھر اس کی تائید میں انہوں نے عبدالرحمن سلمی کا اثر ذکر کیا ہے جو اُوپر گزر چکا ہے۔(۲۱)

۷:۔ ’’عَنْ أَبِي الْخَصِيبِ قَالَ: كَانَ يُؤُمُّنَا سُوَيْدُ بْنُ غَفْلَةَ فِي رَمَضَانَ، فَيُصَلِّي خَمْسَ تَرْوِيحَاتٍ عِشْرِينَ رَكْعَةً۔‘‘ (سننِ کبریٰ ج:۲ ص:۴۹۶)

ترجمہ:۔’’ابوالخصیب کہتے ہیں کہ: سعید بن غفلہ ہمیں رمضان میں نماز پڑھاتے تھے، پس پانچ ترویحے بیس رکعتیں پڑھتے تھے۔‘‘

’’قَالَ النِّيمَوِيُّ: وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ۔‘‘ (آثار السنن ج:۲ ص:۵۵ طبع ہند)

ترجمہ:۔ ’’علامہ نیمویؒ فرماتے ہیں کہ: اس کی سند صحیح ہے۔‘‘

حضرت سوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کا شمار کبار تابعین میں ہے، انہوں نے زمانۂ جاہلیت پایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں اسلام لائے لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نہیں کی، کیونکہ مدینہ طیبہ اس دن پہنچے جس دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین ہوئی، اس لئے صحابیت کے شرف سے مشرف نہ ہوسکے، بعد میں کوفہ میں رہائش اختیار کی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے خاص اصحاب میں تھے، ۸۰ھ میں ایک سو تیس برس کی عمر میں انتقال ہوا (تقریب التہذیب ج:۱ ص:۳۴۱)۔(۲۲)

۸:۔ ’’عَنْ الْحَارِثِ أَنَّهُ كَانَ يُؤُمُّ النَّاسَ فِي رَمَضَانَ بِاللَّيْلِ بِعِشْرِينَ رَكْعَةً، وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ، وَيَقْنُتُ قَبْلَ الرُّكُوعِ۔‘‘ (مصنف ابنِ ابی شیبہ ج:۲ ص:۳۹۳)

ترجمہ:۔’’حارث، رمضان میں لوگوں کو بیس تراویح اور تین وتر پڑھاتے تھے اور رُکوع سے قبل قنوت پڑھتے تھے۔‘‘

۹:۔قیام اللیل میں عبدالرحمن بن ابی بکرہ، سعید بن الحسن اور عمران العبدی سے نقل کیا ہے کہ وہ بیس راتیں بیس تراویح پڑھایا کرتے تھے اور آخری عشرہ میں ایک ترویحہ کا اضافہ کردیتے تھے (قیام اللیل ص:۹۲، طبع جدید ۱۵۸)۔

حارث، عبدالرحمن بن ابی بکرہ (متوفیٰ ۹۶ھ)، اور سعید بن ابی الحسن (متوفیٰ ۱۰۸ھ) تینوں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں۔

۱۰:۔ابوالبختری بھی بیس تراویح اور تین وتر پڑھاتے تھے (مصنف ابنِ ابی شیبہ ج:۲ ص:۳۹۳)۔(۲۳)

۱۱:۔ علی بن ربیعہ، جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اصحاب میں تھے، بیس تراویح اور تین وتر پڑھاتے تھے (مصنف ابنِ ابی شیبہ ج:۲ ص:۳۹۳)۔(۲۴)

۱۲:۔ ابن ابی ملیکہ (متوفیٰ ۱۱۷ھ) بھی بیس تراویح پڑھاتے تھے (مصنف ابنِ ابی شیبہ ج:۲ ص:۳۹۳)۔(۲۵)

۱۳:۔ حضرت عطا (متوفیٰ ۱۱۴ھ) فرماتے ہیں کہ: میں نے لوگوں کو وتر سمیت ۲۳ رکعتیں پڑھتے ہوئے پایا ہے (مصنف ابنِ ابی شیبہ ج:۲ ص:۳۹۳)۔(۲۶)

۱۴:۔ مؤطا اِمام مالکؒ میں عبدالرحمن بن ہرمز الاعرج (متوفیٰ ۱۱۷ھ) کی روایت ہے کہ میں نے لوگوں کو اس حالت میں پایا ہے کہ وہ رمضان میں کفار پر لعنت کرتے تھے اور قاری آٹھ رکعتوں میں سورۂ بقرہ ختم کرتا تھا، اگر وہ بارہ رکعتوں میں سورۂ بقرہ ختم کرتا تو لوگ یہ محسوس کرتے کہ اس نے قرأت میں تخفیف کی ہے (مؤطا اِمام مالکؒ ص:۹۹)۔(۲۷)

اس روایت سے مقصود تو تراویح میں طولِ قرأت کا بیان ہے، لیکن روایت کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ صرف آٹھ رکعات پر اکتفا نہیں کیا جاتا تھا۔

خلاصہ یہ کہ جب سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تراویح کی باقاعدہ جماعت جاری کی، ہمیشہ بیس یا زائد تراویح پڑھی جاتی تھیں، البتہ ایامِ حرہ (۶۳ھ) کے قریب اہلِ مدینہ نے ہر ترویحہ کے درمیان چار رکعتوں کا اضافہ کرلیا، اس لئے وہ وتر سمیت اکتالیس رکعتیں پڑھتے تھے، اور بعض دیگر تابعین بھی عشرۂ اخیرہ میں اضافہ کرلیتے تھے۔ بہرحال صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعینؒ کے دور میں آٹھ تراویح کا کوئی گھٹیا سے گھٹیا ثبوت نہیں ملتا، اس لئے جن حضرات نے یہ فرمایا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بیس تراویح پر صحابہ رضی اللہ عنہم کا اجماع ہوگیا تھا، ان کا ارشاد مبنی برحقیقت ہے، کیونکہ حضراتِ سلف اس تعداد پر اضافے کے تو قائل تھے، مگر اس میں کمی کا قول کسی سے منقول نہیں، اس لئے یہ کہنا صحیح ہے کہ اس بات پر سلف کا اجماع تھا کہ تراویح کی کم سے کم تعداد بیس رکعات ہیں۔

۴:۔ تراویح اَئمۂ اَربعہؒ کے نزدیک

اِمام ابوحنیفہؒ، اِمام شافعیؒ اور اِمام احمد بن حنبلؒ کے نزدیک تراویح کی بیس رکعات ہیں، اِمام مالکؒ سے اس سلسلے میں دو روایتیں منقول ہیں، ایک بیس کی اور دُوسری چھتیس کی، لیکن مالکی مذہب کے متون میں بیس ہی کی روایت کو اختیار کیا گیا ہے۔ فقہِ حنفی کے حوالے دینے کی ضرورت نہیں، دُوسرے مذاہب کی مستند کتابوں کے حوالے پیش کئے جاتے ہیں۔

فقہِ مالکی:

قاضی ابوالولید ابن رشد مالکی (متوفیٰ ۵۹۵ھ) بدایۃ المجتہد میں لکھتے ہیں:

’’وَاخْتَلَفُوا فِي الْمُخْتَارِ مِنْ عَدَدِ الرَّكَعَاتِ الَّتِي يَقُومُ بِهَا النَّاسُ فِي رَمَضَانَ، فَاخْتَارَ مَالِكٌ فِي أَحَدِ قَوْلَيْهِ، وَأَبُو حَنِيفَةَ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَدَاوُدُ: الْقِيَامَ بِعِشْرِينَ رَكْعَةً سِوَى الْوِتْرِ۔ وَذَكَرَ ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ مَالِكٍ أَنَّهُ كَانَ يَسْتَحْسِنُ سِتًّا وَثَلَاثِينَ رَكْعَةً، وَالْوِتْرُ ثَلَاثٌ۔‘‘ (بدایۃ المجتہد ج:۱ ص:۱۵۶، مکتبہ علمیہ لاہور)

ترجمہ:۔’’رمضان میں کتنی رکعات پڑھنا مختار ہے؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے، اِمام مالکؒ نے ایک قول میں اور اِمام ابوحنیفہؒ، شافعیؒ، احمدؒ اور داؤدؒ نے وتر کے علاوہ بیس رکعات کو اختیار کیا ہے، اور ابنِ قاسمؒ نے اِمام مالکؒ سے نقل کیا ہے کہ وہ تین وتر اور چھتیس رکعات تراویح کو پسند فرماتے تھے۔‘‘

مختصر خلیل کے شارح علامہ شیخ احمد الدردیر المالکی (متوفیٰ ۱۲۰۱ھ) لکھتے ہیں:

’’وَهِيَ ثَلَاثٌ وَعِشْرُونَ رَكْعَةً بِالشَّفْعِ وَالْوِتْرِ، كَمَا كَانَ عَلَيْهِ الْعَمَلُ (أَيْ عَمَلُ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ، الدُّسُوقِي)۔

(ثُمَّ جُعِلَتْ) فِي زَمَنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ (سِتًّا وَثَلَاثِينَ) بِغَيْرِ الشَّفْعِ وَالْوِتْرِ، لٰكِنِ الَّذِي جَرَى عَلَيْهِ الْعَمَلُ سَلَفًا وَخَلَفًا الْأَوَّلُ۔‘‘ (شرح الکبیر الدردیر مع حاشیۃ الدسوقی ج:۱ ص:۳۱۵)

ترجمہ:۔’’اور تراویح، وتر سمیت ۲۳ رکعتیں ہیں، جیسا کہ اسی کے مطابق (صحابہؓ و تابعینؒ کا) عمل تھا، پھر حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے زمانے میں وتر کے علاوہ چھتیس کردی گئیں، لیکن جس تعداد پر سلف و خلف کا عمل ہمیشہ جاری رہا وہ اوّل ہے (یعنی بیس تراویح اور تین وتر)۔‘‘

فقہِ شافعی:

اِمام محی الدین نوویؒ (متوفیٰ ۶۷۶ھ) المجموع شرح مہذب میں لکھتے ہیں:

’’(فَرْعٌ) فِي مَذَاهِبِ الْعُلَمَاءِ فِي عَدَدِ رَكَعَاتِ التَّرَاوِيحِ: مَذْهَبُنَا أَنَّهَا عِشْرُونَ رَكْعَةً بِعَشْرِ تَسْلِيمَاتٍ غَيْرَ الْوِتْرِ، وَذٰلِكَ خَمْسُ تَرْوِيحَاتٍ، وَالتَّرْوِيحَةُ أَرْبَعُ رَكَعَاتٍ بِتَسْلِيمَتَيْنِ. هٰذَا مَذْهَبُنَا، وَبِهِ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ وَأَصْحَابُهُ وَأَحْمَدُ وَدَاوُدُ وَغَيْرُهُمْ، وَنَقَلَهُ الْقَاضِي عِيَاضٌ عَنْ جُمْهُورِ الْعُلَمَاءِ، وَحَكَى أَنَّ الْأَسْوَدَ بْنَ يَزِيدَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ كَانَ يَقُومُ بِأَرْبَعِينَ رَكْعَةً يُوتِرُ بِسَبْعٍ، وَقَالَ مَالِكٌ: التَّرَاوِيحُ تِسْعُ تَرْوِيحَاتٍ، وَهِيَ سِتٌّ وَثَلَاثُونَ رَكْعَةً غَيْرَ الْوِتْرِ۔‘‘ (مجموع شرح مہذب ج:۴ ص:۳۲)

ترجمہ:۔’’رکعاتِ تراویح کی تعداد میں علماء کے مذاہب کا بیان۔ ہمارا مذہب یہ ہے کہ تراویح بیس رکعتیں ہیں، دس سلاموں کے ساتھ، علاوہ وتر کے۔ یہ پانچ ترویحے ہوئے، ایک ترویحہ چار رکعات کا دو سلاموں کے ساتھ۔ اِمام ابوحنیفہؒ اور ان کے اصحاب، اِمام احمدؒ اور اِمام داؤدؒ وغیرہ بھی اسی کے قائل ہیں، اور قاضی عیاضؒ نے اسے جمہور علماء سے نقل کیا ہے۔ نقل کیا گیا ہے کہ اسود بن یزید اکتالیس تراویح اور سات وتر پڑھا کرتے تھے، اور اِمام مالکؒ فرماتے ہیں کہ: تراویح نو ترویحے ہیں، اور یہ وتر کے علاوہ چھتیس رکعتیں ہوئیں۔‘‘

فقہِ حنبلی:

حافظ ابنِ قدامہ المقدسی الحنبلی (متوفیٰ ۶۲۰ھ) المغنی میں لکھتے ہیں:

’’وَالْمُخْتَارُ عِنْدَ أَبِي عَبْدِاللّٰهِ رَحِمَهُ اللّٰهُ فِيهَا عِشْرُونَ رَكْعَةً، وَبِهٰذَا قَالَ الثَّوْرِيُّ وَأَبُو حَنِيفَةَ وَالشَّافِعِيُّ، وَقَالَ مَالِكٌ سِتٌّ وَثَلَاثُونَ۔‘‘(مغنی ابنِ قدامہ ج:۱ ص:۷۹۸، ۷۹۹، مع الشرح الکبیر)

ترجمہ:۔’’اِمام احمدؒ کے نزدیک تراویح میں بیس رکعتیں مختار ہیں۔ اِمام ثوریؒ، ابوحنیفہؒ اور شافعیؒ بھی اسی کے قائل ہیں، اور اِمام مالکؒ چھتیس کے قائل ہیں۔‘‘

خاتمہ بحث، چند ضروری فوائد:

مسک الختام کے طور پر چند فوائد گوش گزار کرنا چاہتا ہوں، تاکہ بیس تراویح کی اہمیت ذہن نشین ہوسکے۔

۱:۔ بیس تراویح سنتِ مؤکدہ ہے:

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم کی موجودگی میں بیس تراویح جاری کرنا، صحابہ کرامؓ کا اس پر نکیر نہ کرنا، اور عہدِ صحابہؓ سے لے کر آج تک شرقاً و غرباً بیس تراویح کا مسلسل زیرِ تعامل رہنا، اس امر کی دلیل ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ دین میں داخل ہے، لقولہ تعالیٰ: ’’وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمۡ دِينَهُمُ ٱلَّذِي ٱرۡتَضَىٰ لَهُمۡ‘‘ (اللہ تعالیٰ خلفائے راشدینؓ کے لئے ان کے اس دین کو قرار و تمکین بخشیں گے، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے پسند فرمالیا ہے)۔

الاختیار شرح المختار میں ہے:

’’رَوَى أَسَدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي يُوسُفَ قَالَ: سُئِلْتُ أَبَا حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ عَنِ التَّرَاوِيحِ وَمَا فَعَلَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ، فَقَالَ: التَّرَاوِيحُ سُنَّةٌ مُؤَكَّدَةٌ، وَلَمْ يَتَخَرَّصْهَا عُمَرُ مِنْ تَلْقَاءِ نَفْسِهِ، وَلَمْ يَكُنْ فِيهِ مُبْتَدِعًا، وَلَمْ يَأْمُرْ بِهَا إِلَّا عَنْ أَصْلٍ لَدَيْهِ وَعَهْدٍ مِنْ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَقَدْ سَنَّ عُمَرُ هٰذَا وَجَمَعَ النَّاسَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَصَلَّاهَا جَمَاعَةً، وَالصَّحَابَةُ مُتَوَافِرُونَ، مِنْهُمْ عُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَابْنُ مَسْعُودٍ، وَالْعَبَّاسُ وَابْنُهُ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَمُعَاذٌ، وَأُبَيٌّ، وَغَيْرُهُمْ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ أَجْمَعِينَ، وَمَا رَدَّ عَلَيْهِ وَاحِدٌ مِنْهُمْ، بَلْ سَاعَدُوهُ وَوَافَقُوهُ وَأَمَرُوا بِذٰلِكَ۔‘‘ (الاختیار لتعلیل المختار ج:۱ ص:۶۸، الشیخ الاِمام ابی الفضل مجدالدین عبداﷲ بن محمود الموصلی الحنفی، متوفی ۶۸۳ھ)

ترجمہ:۔’’اسد بن عمرو، اِمام ابویوسفؒ سے روایت کرتے ہیں کہ: میں نے حضرت اِمام ابوحنیفہؒ سے تراویح اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے فعل کے بارے میں سوال کیا، تو انہوں نے فرمایا کہ: تراویح سنتِ مؤکدہ ہے، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو اپنی طرف سے اختراع نہیں کیا، نہ وہ کوئی بدعت ایجاد کرنے والے تھے، انہوں نے جو حکم دیا وہ کسی اصل کی بنا پر تھا جو ان کے پاس موجود تھی، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی عہد پر مبنی تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سنت جاری کی اور لوگوں کو اُبیّ بن کعبؓ پر جمع کیا، پس انہوں نے تراویح کی جماعت کرائی، اس وقت صحابہ کرامؓ کثیر تعداد میں موجود تھے، حضرات عثمان، علی، ابنِ مسعود، عباس، ابنِ عباس، طلحہ، زبیر، معاذ اُبیّ اور دیگر مہاجرین و انصار رضی اللہ عنہم اجمعین سب موجود تھے، مگر ایک نے بھی اس کو رَدّ نہیں کیا، بلکہ سب نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے موافقت کی اور اس کا حکم دیا۔‘‘

۲:۔ خلفائے راشدینؓ کی جاری کردہ سنت کے بارے میں وصیتِ نبوی:

اُوپر معلوم ہوچکا ہے کہ بیس تراویح تین خلفائے راشدینؓ کی سنت ہے اور سنتِ خلفائے راشدینؓ کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:

’’إِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ بَعْدِي فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ، تَمَسَّكُوا بِهَا وَعَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ، فَإِنَّ كُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ۔‘‘ (رواہ احمد وابوداؤد والترمذی وابن ماجہ، مشکوٰۃ ص:۳۰)

ترجمہ:۔’’جو شخص تم میں سے میرے بعد جیتا رہا وہ بہت سے اختلاف دیکھے گا، پس میری سنت کو اور خلفائے راشدینؓ مہدیین کی سنت کو لازم پکڑو، اسے مضبوط تھام لو اور دانتوں سے مضبوط پکڑ لو، اور نئی نئی باتوں سے احتراز کرو، کیونکہ ہر نئی بات بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔‘‘

اس حدیث پاک سے سنتِ خلفائے راشدینؓ کی پیروی کی تاکید معلوم ہوتی ہے، اور یہ کہ اس کی مخالفت بدعت و گمراہی ہے۔

۳:۔ اَئمۂ اَربعہ کے مذاہب سے خروج جائز نہیں:

اُوپر معلوم ہوچکا ہے کہ اَئمۂ اَربعہ کم سے کم بیس تراویح کے قائل ہیں، اَئمۂ اَربعہ کے مذہب کا اتباع سوادِ اعظم کا اتباع ہے، اور مذاہبِ اَربعہ سے خروج، سوادِ اعظم سے خروج ہے، مسند الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ’’عقد الجید‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اتَّبِعُوا السَّوَادَ الْأَعْظَمَ۔ وَلَمَّا انْدَرَسَتِ الْمَذَاهِبُ الْحَقَّةُ إِلَّا هٰذِهِ الْأَرْبَعَةَ كَانَ اتِّبَاعُهَا اتِّبَاعًا لِلسَّوَادِ الْأَعْظَمِ، وَالْخُرُوجُ عَنْهَا خُرُوجًا عَنِ السَّوَادِ الْأَعْظَمِ۔ (رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ، كَمَا فِي مِشْكَاةٍ ص:۳۰، وَتَمَامُهُ: ’’فَإِنَّهُ مَنْ شَذَّ شَذَّ فِي النَّارِ‘‘۔ عقد الجید ص:۳۷ مطبوعہ ترکیہ)

ترجمہ:۔’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ: ’’سوادِ اعظم کی پیروی کرو!‘‘ اور جبکہ ان مذاہبِ اَربعہ کے سوا باقی مذاہبِ حقہ مٹ چکے ہیں تو ان کا اتباع سوادِ اعظم کا اتباع ہوگا، اور ان سے خروج سوادِ اعظم سے خروج ہوگا۔‘‘

۴:۔ بیس تراویح کی حکمت:

حکمائے اُمت نے اپنے اپنے ذوق کے مطابق بیس تراویح کی حکمتیں بھی ارشاد فرمائی ہیں، یہاں تین اکابر کے ارشادات نقل کئے جاتے ہیں:

۱:۔ البحر الرائق میں شیخ ابراہیم الحلبی الحنفی (متوفیٰ ۹۵۶ھ) سے نقل کیا ہے:

’’وَذَكَرَ الْعَلَّامَةُ الْحَلَبِيُّ أَنَّ الْحِكْمَةَ فِي كَوْنِهَا عِشْرِينَ: أَنَّ السُّنَنَ شُرِعَتْ مُكَمِّلَاتٍ لِلْوَاجِبَاتِ، وَهِيَ عِشْرُونَ بِالْوِتْرِ، فَكَانَتِ التَّرَاوِيحُ كَذٰلِكَ لِتَقَعَ الْمُسَاوَاةُ بَيْنَ الْمُكَمِّلِ وَالْمُكَمَّلِ. انْتَهَى۔‘‘ (البحر الرائق ج:۲ ص:۷۲)

ترجمہ:۔’’علامہ حلبیؒ نے ذکر کیا ہے کہ تراویح کے بیس رکعات ہونے میں حکمت یہ ہے کہ سنن، فرائض و واجبات کی تکمیل کے لئے مشروع ہوئی ہیں، اور فرائض پنج گانہ وتر سمیت بیس رکعات ہیں۔ لہٰذا تراویح بھی بیس رکعات ہوئیں، تاکہ مکمل اور مکمل کے درمیان مساوات ہوجائے۔‘‘

۲:۔ علامہ منصور بن یونس حنبلیؒ (متوفیٰ ۱۰۴۶ھ) کشف القناع میں لکھتے ہیں:

’’وَالسِّرُّ فِيهِ أَنَّ الرَّاتِبَةَ عَشْرٌ، فَضُوعِفَتْ فِي رَمَضَانَ لِأَنَّهُ وَقْتُ جِدٍّ۔‘‘ (کشف القناع عن متن الاقناع ج:۱ ص:۳۹۲)

ترجمہ:۔’’اور بیس تراویح میں حکمت یہ ہے کہ سننِ مؤکدہ دس ہیں، پس رمضان میں ان کو دو چند کردیا گیا، کیونکہ وہ محنت و ریاضت کا وقت ہے۔‘‘

۳:۔ حکیم الاُمت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ اس امر کو ذکر کرتے ہوئے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے تراویح کی بیس رکعتیں قرار دیں، اس کی حکمت یہ بیان فرماتے ہیں:

’’وَذٰلِك أَنَّهُمْ رَأَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرَعَ لِلْمُحْسِنِينَ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي جَمِيعِ السَّنَةِ، فَحَكَمُوا أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ حَظُّ الْمُسْلِمِ فِي رَمَضَانَ عِنْدَ قَصْدِهِ الِاقْتِحَامَ فِي لُجَّةِ التَّشَبُّهِ بِالْمَلَكُوتِ أَقَلَّ مِنْ ضِعْفِهَا۔‘‘ (حجۃ اﷲ البالغہ ج:۲ ص:۱۸)

ترجمہ:۔’’اور یہ اس لئے کہ انہوں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے محسنین کے لئے (صلوٰۃ اللیل کی) گیارہ رکعتیں پورے سال میں مشروع فرمائی ہیں، پس ان کا فیصلہ یہ ہوا کہ رمضان المبارک میں جب مسلمان تشبہ بالملکوت کے دریا میں غوطہ لگانے کا قصد رکھتا ہے تو اس کا حصہ سال بھر کی رکعتوں کے دوگنا سے کم نہیں ہونا چاہئے۔‘‘

(۱) ان عائشۃ أخبرتہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خرج لیلۃ من جوف اللیل فصلی فی المسجد وصلی رجال بصلاتہ فأصبح الناس فتحدثوا فاجتمع أکثر منھم فصلی فصلوا معہ فأصبح الناس فتحدثوا فکثر أھل المسجد من اللیلۃ الثالثۃ فخرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فصلّٰی فصلوا بصلاتہ فلما کانت اللیلۃ الرابعۃ عجز المسجد عن أھلہ حتّٰی خرج لصلٰوۃ الصبح فلما قضی الفجر أقبل علی الناس فتشھد ثم قال: أما بعد! فإنہ لم یخف علیّ مکانکم ولٰـکنّی خشیت أن تفترض علیکم فتعجزوا عنھا۔ فتوفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والأمر علٰی ذالک۔ (صحیح بخاری ج:۱ ص:۲۶۹)۔

(۲) أبو ذر الغفار رضی اللہ عنہ قال: صمنا مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان، فلم یقم بنا حتّٰی بقی سبع من الشھر، فقام بنا حتّٰی ذھب ثلث اللیل، ثم لم یقم بنا فی السادسۃ، وقام بنا فی الخامسۃ حتّٰی ذھب شطر اللیل ۔۔۔ ثم لم یقم بنا حتی بقی ثلاث لیال من الشھر، فصلی بنا فی الثالثۃ، ودعا أھلہ ونسائہ، فقام بنا حتّٰی تخوفنا الفلاح، قلت: وما الفلاح؟ قال: السحور۔ (جامع الأصول ج:۶ ص:۱۲۰، ۱۲۱، طبع دار البیان، بیروت)۔

(۳) أبو طلحۃ قال: سمعت النعمان بن بشیر علٰی منبر حمص یقول: قمنا مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی شھر رمضان لیلۃ ثلاث وعشرین إلٰی ثلث اللیل الأوّل، ثم قمنا معہ لیلۃ خمس وعشرین إلٰی نصف اللیل، ثم قمنا معہ لیلۃ سبع وعشرین حتّٰی ظننا أن لَا ندرک الفلاح وکانوا یسمّونہ السحور۔ (نسائی ج:۱ ص:۲۳۸ باب قیام شھر رمضان)۔

(۴) زید بن ثابت رضی اللہ عنہ قال ۔۔۔ وقال عبدالأعلٰی: فی رمضان، فخرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصلی فیھا، قال: فتتبع إلیہ رجال، وجاؤوا یصلون بصلاتہ، قال: ثم جاؤوا لیلۃً، فحضروا۔ (جامع الأصول ج:۶ ص:۱۱۸)۔

(۵) عن أنس قال: کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصلی فی رمضان فجئت فقمت إلٰی جنبہ وجاء رجل فقام أیضًا حتّٰی کنا رھطا فلما حس النبی صلی اللہ علیہ وسلم انّا خلفہ جعل یتجوز فی الصلٰوۃ ثم دخل رحلہ فصلّٰی صلاۃ لَا یصلیھا عندنا۔ (صحیح مسلم ج:۱ ص:۳۵۲، باب النھی عن الوصال، طبع قدیمی کتب خانہ)۔

(۶) زید بن ثابت رضی اللہ عنہ قال ۔۔۔ فخرج إلیھم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغضبا، فقال لھم: بما زال بکم صنیعکم حتّٰی ظننت أنہ سیکتب علیکم، فعلیکم بالصلاۃ فی بیوتکم۔ (جامع الأصول ج:۶ ص:۱۱۸، طبع دار البیان)۔

(۷) کان إذا دخل رمضان تغیّر لونہ، وکثرت صلاتہ، وابتھل فی الدعاء، وأشفق لونہ۔ (فیض القدیر شرح جامع الصغیر ج:۵ ص:۱۳۲، حدیث نمبر:۲۶۸۱، طبع بیروت)۔

(۸) عن جابر بن عبداللہ قال: صلّٰی بنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی شھر رمضان ثمانی رکعات وأوتر۔ (موارد الظمآن ج:۳ ص:۲۲۶، طبع بیروت)۔

(۹) عیسَی بن جاریۃ الأنصاری المدنی ۔۔۔ قال ابن أبی خیثمۃ عن ابن معین لیس بذالک ۔۔۔ وقال الدوری عن ابن معین عندہ مناکیر ۔۔۔ وقال الآجری عن أبی داوٗد منکر الحدیث ۔۔۔ وذکرہ الساجی والعقیلی فی الضعفاء وقال ابن عدی احادیثہ غیر محفوظۃ۔ (تھذیب التھذیب لِابن حجر ج:۸ ص:۲۰۸، میزان ج:۳ ص:۳۱۱)۔

(۱۰) عن أنس ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم کان یصلی باللیل فی رمضان، فجاء قوم وصلّٰی، وکان یخفف، ثم یدخل بیتہ فیصلی، ثم یخرج فیخفف۔ (مجمع الزوائد ج:۳ ص:۳۰۴، باب قیام رمضان، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔

(۱۱) عن ابن عباس قال: کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یصلی فی شھر رمضان فی غیر جماعۃ بعشرین رکعۃ والوتر۔ تفرد بہ أبو شیبۃ إبراھیم بن عثمان العبسی الکوفی وھو ضعیف۔ (سنن البیھقی واللفظ لہٗ ج:۲ ص:۴۹۶، باب ما روی فی عدد رکعات القیام فی شھر رمضان، أیضًا: مصنف ابن أبی شیبۃ ج:۲ ص:۳۹۴، مجمع الزوائد ج:۳ ص:۳۰۴)۔

(۱۲) عن أبی سلمۃ بن عبدالرحمٰن انہ سأل عائشۃ کیف کانت صلٰوۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی رمضان؟ فقالت: ما کان یزید فی رمضان ولَا فی غیرہ علٰی احدیٰ عشرۃ رکعۃ یصلّی أربعًا فلا تسأل عن حسنھنّ وطولھنّ، ثم یصلی أربعًا فلا تسأل عن حسنھنّ وطولھنّ، ثم یصلی ثلاثًا ۔۔۔إلخ۔ (بخاری ج:۱ ص:۲۶۹، باب فضل من قام رمضان)۔

(۱۳) عن عبدالرحمٰن بن عبدٍ القاری أنہ قال: خرجت مع عمر بن الخطاب لیلۃ فی رمضان إلی المسجد فإذا الناس أوزاع متفرقون یصلی الرجل لنفسہ ویصلی الرجل فیصلی بصلاتہ الرھط، فقال عمر: إنی أرٰی لو جمعت ھٰؤلَاء علٰی قاریٔ واحد لکان أمثل، ثم عزم فجمعھم علٰی اُبیّ بن کعب۔ (بخاری ج:۱ ص:۲۶۹، باب فضل من قام رمضان)۔

(۱۴) ففی سنۃ أربع عشرۃ ۔۔۔ وفیھا جمع الناس علٰی صلاۃ التراویح۔ (تاریخ الخلفاء ص:۱۰۴، فصل فی خلافتہ رضی اللہ عنہ)۔

(۱۵) واستدل لھم أیضًا بما روی البیھقی فی سننہ عن السائب بن یزید قال: کنا نقوم فی زمان عمر بن الخطاب بعشرین رکعۃ والوتر وصح اسنادہ السبکی فی شرح المنھاج وعلی القاریٔ فی شرح المؤطا۔ (تحفۃ الأحوذی ج:۲ ص:۷۵، واللفظ للتحفۃ، وأیضًا فی آثار السنن ج:۲ ص:۵۴، طبع حقانیہ ملتان)۔

(۱۶) مالک عن محمد بن یوسف عن السائب ابن یزید أنہ قال: أمر عمر بن الخطاب اُبیّ بن کعب وتمیما الداری أن یقوما للناس باحدیٰ عشرۃ رکعۃ۔ (مؤطا إمام مالک ص:۹۸، طبع نور محمد کتب خانہ)۔

(۱۷) وأخرج من طریق محمد بن إسحاق حدثنی محمد بن یوسف عن جدہ السائب بن یزید قال: کنا نصلی زمن عمر فی رمضان ثلاث عشرۃ۔ (فتح الباری ج:۴ ص:۲۵۴، طبع دار نشر الکتب الْإسلامیۃ لَاھور)۔

(۱۸) عبدالرزاق عن داوٗد بن قیس وغیرہ عن محمد بن یوسف عن السائب بن یزید: أن عمر جمع الناس فی رمضان علٰی اُبیّ بن کعب، وعلٰی تمیم الداری، علٰی إحدیٰ وعشرین رکعۃ، یقرؤون بالمئین وینصرفون عند فروع الفجر۔ (باب قیام رمضان، مصنَّف عبدالرزاق ج:۴ ص:۲۶۰، طبع مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ)۔

(۱۹) قال الأعمش کان عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یصلی عشرین رکعۃ ویوتر بثلاث ۔۔۔إلخ۔ (قیام اللیل ص:۹۱)۔

(۲۰) وعن أبی عبدالرحمٰن السلمی أنّ علیًّا دعا القراء فی رمضان فأمر رجلًا منھم یصلّی بالنّاس عشرین رکعۃ۔ (منھاج السُّنَّۃ ج:۳ ص:۲۲۴، طبع المکتبۃ السلفیۃ لَاھور)۔ وفیہ أیضًا: أنّ ھٰذا لو کان قبیحًا منھیًّا عنہ لکان علیٌّ أبطلہ لمّا صار أمیر المؤمنین وھو بالکوفۃ فلما کان جاریًا فی ذالک مجری عمر دلّ علٰی إستحباب ذالک۔

(۲۱) قلت: الأظھر ان ضعفہ من جھۃ أبی سعد سعید بن المرزبان البقال فإنہ متکلم فیہ فإن کان کذالک فقد تابعہ علیہ غیرہ قال ابن أبی شیبۃ فی المصنف ثنا وکیع عن الحسن بن صالح عن عمرو بن قیس عن أبی الحسناء أن علیًّا أمر رجلًا یصلی بھم فی رمضان عشرین رکعۃ۔ (ذیل سنن الکبریٰ ج:۲ ص:۴۹۵، طبع دار الکتب العلمیۃ)۔

(۲۲) وفی ذالک قوۃ لما أخبرنا ۔۔۔ عن أبی عبدالرحمٰن السلمی عن علیّ رضی اللہ عنہ قال: دعا القراء فی رمضان فأمر منھم رجلًا یصلی بالناس عشرین رکعۃ قال وکان علی رضی اللہ عنہ یوتر بھم وروی ذالک من وجہ آخر عن علیّ۔ (سنن بیھقی ج:۲ ص:۴۹۶، طبع دار الکتب العلمیۃ، بیروت)۔

(۲۳) سوید بن غفلۃ، بفتح المعجمۃ والفاء، أبو امیۃ الجعفی، مخضرم، من کبار التابعین، قدم المدینۃ یوم دفن النبی صلی اللہ علیہ وسلم، وکان مسلمًا فی حیاتہ، ثم نزل الکوفۃ ومات سنۃ ثمانین، ولہ مائۃ وثلاثون سنۃ۔ (تقریب التھذیب ج:۱ ص:۳۴۱، رقم:۶۰۳، طبع بیروت)۔

(۲۴) عن أبی البختری: أنہ کان یصلی خمس ترویحات فی رمضان، ویوتر بثلاث۔ (المصنف لِابن أبی شیبۃ ج:۵ ص:۲۲۴، حدیث نمبر:۷۷۶۸، طبع المجلس العلمی بیروت)۔

(۲۵) ان علی بن ربیعۃ کان یصلی بھم فی رمضان خمس ترویحات، ویوتر بثلاث۔ (المصنف لِابن أبی شیبۃ ج:۵ ص:۲۲۴، حدیث نمبر:۷۷۷۲، طبع المجلس العلمی بیروت)۔

(۲۶) وکیع عن نافع بن عمر قال: کان ابن أبی ملیکۃ یصلی بنا فی رمضان عشرین رکعۃ۔ (المصنف لِابن أبی شیبۃ ج:۵ ص:۲۲۳، ۲۲۴، حدیث نمبر:۷۷۶۵، طبع المجلس العلمی بیروت)۔

(۲۷) ابن نمیر عن عبدالملک عن عطاء قال: أدرکت الناس وھم یصلون ثلاثا وعشرین رکعۃ بالوتر۔ (المصنف لِابن أبی شیبۃ ج:۵ ص:۲۲۴، حدیث نمبر:۷۷۷۰، طبع المجلس العلمی بیروت)۔

(۲۸) مالک عن داوٗد بن الحصین أنہ سمع الأعرج یقول: ما أدرکت الناس إلّا وھم یلعنون الکفرۃ فی رمضان قال وکان القاریٔ یقرأ بسورۃ البقرۃ فی ثمان رکعات، فإذا قام بھا فی اثنتی عشر رکعۃ رأی الناس أنہ قد خفف۔ (مؤطا إمام مالک ص:۹۹، طبع نور محمد کتب خانہ کراچی)۔