بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نمازِ‌تراویح

تراویح‌کے‌سنتِ‌رسول‌ہونے‌پر‌اعتراض‌غلط‌ہے

سوال:۔

نمازِ تراویح شریعت کے مطابق سنتِ رسول ہے، لیکن مجھے جناب جسٹس قدیرالدین احمد صاحب (ریٹائرڈ) کے ایک مضمون بعنوان ’’دورِ حاضر اور اِجتہاد‘‘ مؤرّخہ ۲؍۷؍۱۹۸۵ء نوائے وقت کراچی میں پڑھ کر حیرانی ہوئی کہ نمازِ تراویح کا آغاز ایک اِجتہاد کے تحت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کیا تھا، اگر یہ دُرست ہے تو آپ بتائیں کہ نمازِ تراویح سنتِ رسول کیسے ہوئی؟

جواب:۔

نمازِ تراویح کو اِجتہاد کہنا جسٹس صاحب کا ’’غلط اِجتہاد‘‘ ہے۔ نمازِ تراویح کی ترغیب خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے،(۱) اور تراویح کا جماعت سے ادا کرنا بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے، مگر اس اندیشے کی وجہ سے کہیں یہ اُمت پر فرض نہ ہوجائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت کا اہتمام ترک فرمادیا، اور حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے زمانے میں چونکہ یہ اندیشہ باقی نہیں رہا تھا، اس لئے آپ نے اس سنت ’’جماعت‘‘ کو دوبارہ جاری کردیا۔(۲)

علاوہ ازیں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی اِقتدا کا لازم ہونا شریعت کا ایک مستقل اُصول ہے، اگر بالفرض تراویح کی نماز حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اِجتہاد ہی سے جاری کی ہوتی تو چونکہ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس کو بالاجماع قبول کرلیا اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے اس پر عمل کیا، اس لئے بعد کے کسی شخص کے لئے اجماعِ صحابہؓ اور سنتِ خلفائے راشدینؓ کی مخالفت کی گنجائش نہیں رہی، یہی وجہ ہے کہ اہلِ حق میں سے کوئی ایک بھی تراویح کے سنت ہونے کا منکر نہیں۔(۳)

  1. (۱) کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یرغب فی قیام رمضان من غیر أن یأمرھم فیہ بعزیمۃ فیقول: من قام رمضان إیمانًا واحتسابًا غُفر لہ ما تقدم من ذنبہ۔ فتوفی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم والأمر علٰی ذالک۔ (جامع الأصول ج:۹ ص:۴۳۹، بروایت: بخاری، مسلم، أبوداوٗد، ترمذی، نسائی، مؤطا)۔
  2. (۲) والأصل فیہ ما روی ان النبی علیہ الصلٰوۃ والسلام خرج لیلۃ فی شھر رمضان، فصلّٰی بھم عشرین رکعۃ، واجتمع الناس فی الثانیۃ فخرج فصلّٰی بھم، فلما کانت الثالثۃ کثر الناس فلم یخرج، وقال: عرفت اجتماعکم، لٰـکنّی خشیت أن یفترض علیھم، فکان الناس یصلونھا فرادیٰ إلٰی أیام عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ، ثم تقاعدوا عنھا فرأی أن یجمعھم علٰی إمامٍ واحدٍ فجمعھم علٰی اُبیّ بن کعب، وکان یصلی بھم خمس ترویحات یجلس بین کل ترویحتین فکانت جملتھا عشرین رکعۃ۔ (شرح العنایۃ علٰی ھامش فتح القدیر ج:۱ ص:۳۳۴، وأیضًا: الْإختیار لتعلیل المختار ج:۱ ص:۶۸)۔
  3. (۳) عن العرباض بن ساریۃ رضی اللہ عنہ قال: صلّٰی بنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثم أقبل علینا بوجھہ ۔۔۔ فقال ۔۔۔ فإنہ من یعش منکم بعدی فسیری اختلافًا کثیرًا، فعلیکم بسُنّتی وسُنّۃ الخلفاء الراشدین المھدیین! تمسّکوا بھا وعضّوا علیھا بالنّواجذ! وإیّاکم ومحدثات الأمور! فإن کل محدثۃ بدعۃ، وکل بدعۃ ضلالۃ۔ رواہ أحمد وأبوداوٗد والترمذی وابن ماجۃ۔ (مشکٰوۃ ص:۳۰، باب الْإعتصام بالکتاب والسُّنّۃ)۔