بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نمازِ‌تراویح

‌آٹھ‌تراویح‌پڑھنا‌کیسا‌ہے؟

سوال:۔

اب جبکہ رمضان کا مہینہ ہے اور رمضان میں تراویح بھی پڑھی جاتی ہیں، ہمارے گھر والے کہتے ہیں کہ تراویح بیس سے کم نہیں پڑھنی چاہئے، جبکہ کئی لوگ کہتے ہیں کہ تراویح آٹھ بھی جائز ہیں اور بارہ بھی جائز ہیں، اب آپ ہی بتائیں کہ کیا آٹھ تراویح پڑھنا جائز ہیں کہ نہیں؟

جواب:۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے وقت سے آج تک بیس ہی تراویح چلی آتی ہیں اور اس مسئلے میں کسی اِمامِ مجتہد کا بھی اختلاف نہیں، سب بیس ہی کے قائل ہیں، البتہ اہلِ حدیث حضرات آٹھ پڑھتے ہیں، پس جو شخص اس مسلک کا ہو وہ تو آٹھ پڑھ لیا کرے، مگر باقی مسلمانوں کے لئے آٹھ پڑھنا دُرست نہیں، ورنہ سنتِ مؤکدہ کے تارک ہوں گے اور ترکِ سنت کی عادت ڈال لینا گناہ ہے۔(۱)

  1. (۱) وفی رد المحتار: لٰـکن فی التلویح ترک السنۃ المؤکدۃ قریب من الحرام یستحق حرمان الشفاعۃ لقولہ علیہ الصلٰوۃ والسلام من ترک سنتی لم ینل شفاعتی اھـ۔ وفی التحریر أن تارکھا یستوجب التضلیل وللوم اھـ والمراد ترک بلا عذر علٰی سبیل الْإصرار کما فی شرح التحریر لِابن أمیر حاج ۔۔۔إلخ۔ (رد المحتار ج:۱ ص:۱۰۴، مطلب فی السنۃ وتعریفھا)۔