نمازِتراویح
وتراورتراویحکاثبوت
سوال:۔
ہمارے گاؤں میں کچھ اہلِ حدیث حضرات موجود ہیں، جو آئے دن نمازیوں میں واویلا کرتے رہتے ہیں کہ وتر اور تراویح کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں کہیں بھی بیس کا ذکر نہیں، بیس تراویح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ایجاد کردہ ہے، لہٰذا ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنا ضروری ہے۔ ہم نے آج تک بیس تراویح ہی پڑھی اور پڑھائی ہیں، جبکہ ہمارا دعویٰ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل احادیثِ نبویہ کے خلاف نہیں ہوسکتا۔
جواب:۔
اہلِ حدیث حضرات کے بعض مسائل شاذ ہیں، جن میں وہ پوری اُمتِ مسلمہ سے کٹ گئے ہیں، ان میں سے ایک تین طلاق کا مسئلہ ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے لے کر جمہور اُمت اور ائمہ اربعہ کا مسلک ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوں گی،(۱) لیکن شیعہ اور اہلِ حدیث کو اس مسئلے میں اُمتِ مسلمہ سے اختلاف ہے۔ دُوسرا مسئلہ بیس تراویح کا ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور سے آج تک مساجد میں بیس تراویح پڑھی جارہی ہیں، اور تمام ائمہ کم سے کم بیس تراویح پر متفق ہیں، جبکہ اہلِ حدیث کو اس سے اختلاف ہے۔(۲)
- (۱) (قولہ ثلاثۃ متفرقۃ) ۔۔۔ وذھب جمھور الصحابۃ والتابعین ومن بعدھم من اَئمۃ المسلمین إلٰی أنہ یقع ثلاث۔ (شامیۃ ج:۳ ص:۲۳۳، کتاب الطّلاق، طبع ایچ ایم سعید)۔
- (۲) وأکثر أھل العلم علٰی ما روی عن علی وعمر وغیرھما من أصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم عشرین رکعۃ وھو قول سفیان الثوری وابن المبارک والشافعی وقال الشافعی وھٰکذا أدرکت ببلدنا مکۃ یصلون عشرین رکعۃ ۔۔۔إلخ۔ (جامع الترمذی ج:۱ ص:۹۹، باب ما جاء فی قیام شھر رمضان، طبع رشیدیہ دھلی)۔

