نمازِتراویح
جوشخصروزےکیطاقتنہرکھتاہو،وہبھیتراویحپڑھے
سوال:۔
اگر کوئی شخص بوجہ بیماری رمضان المبارک کے روزے نہ رکھ سکے تو وہ کیا کرے؟نیز یہ بھی فرمائیے کہ ایسے شخص کی تراویح کا کیا بنے گا؟ وہ تراویح پڑھے گا یا نہیں؟
جواب:۔
جو شخص بیماری کی وجہ سے روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا، اسے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے، تندرست ہونے کے بعد روزوں کی قضا رکھ لے،(۱) اور اگر بیماری ایسی ہو کہ اس سے اچھا ہونے کی اُمید نہیں، تو ہر روزے کے بدلے صدقۂ فطر کی مقدار فدیہ دے دیا کرے،(۲) اور تراویح پڑھنے کی طاقت رکھتا ہو تو اسے تراویح ضرور پڑھنی چاہئے، تراویح مستقل عبادت ہے، یہ نہیں کہ جو روزہ رکھے وہی تراویح پڑھے۔(۳)
- (۱) قال تعالٰی: ﵟ شَهۡرُ رَمَضَانَ ٱلَّذِيٓ أُنزِلَ فِيهِ ٱلۡقُرۡءَانُ .... فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ ٱلشَّهۡرَ فَلۡيَصُمۡهُۖ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوۡ عَلَىٰ سَفَرٖ فَعِدَّةٞ مِّنۡ أَيَّامٍ أُخَرَۗ ﵞ‘‘ الآیۃ۔ البقرة ١٥٨۔ أیضًا: أو مریض خاف الزیادۃ یوم العذر ۔۔۔ الفطر ۔۔۔ وقضو لزومًا ۔۔۔إلخ۔ (درمختار مع الشامی ج:۲ ص:۴۲۲، فصل فی العوارض)۔ أیضًا: قال ومن خاف أن تزاد عینہ وجعًا أو یزاد حمًا شدۃ افطر وقضٰی، وذالک لقول اللہ تعالٰی: ﵟوَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوۡ عَلَىٰ سَفَرٖ فَعِدَّةٞ مِّنۡ أَيَّامٍ أُخَرَۗ ﵞ، یقتضی ظاھرہ إباحۃ الْإفطار لکل مریض۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۲ ص:۴۴۶، طبع دار السراج، بیروت)۔
- (۲) المریض إذا تحقق الیأس من الصحۃ فعلیہ الفدیۃ لکل یوم من المرض اھـ۔ (شامی ج:۲ ص:۴۲۷)۔
- (۳) (التروایح سنۃ مؤکدۃ) لأن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أقامھا فی بعض اللیالی، وبین العذر فی ترک المواظبۃ وھو خشیۃ ان تکتب علینا وواظب علیھا الخلفاء الراشدون وجمیع المسلمین من زمن عمر بن الخطاب إلٰی یومنا ھٰذا ۔۔۔إلخ۔ (الْإختیار لتعلیل المختار ج:۱ ص:۶۸، کتاب الصلاۃ، باب النوافل)۔

