بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نمازِ‌تراویح

کیا‌غیررمضان‌میں‌تراویح،‌تہجد‌کی‌نماز‌کو‌کہا‌گیا‌ہے؟

سوال:۔

کیا غیررمضان میں تراویح، تہجد کی نماز کو کہا گیا ہے؟ اور یہ کہ تہجد کی کتنی رکعتیں ہیں؟ قرآن و حدیث کے حوالے سے جواب دیجئے۔

جواب:۔

تہجد الگ نماز ہے، جو کہ رمضان اور غیررمضان دونوں میں مسنون ہے، تراویح صرف رمضان مبارک کی عبادت ہے، تہجد اور تراویح کو ایک نماز نہیں کہا جاسکتا۔(۱) تہجد کی کم سے کم رکعات دو ہیں اور زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعات ہیں، اور درمیانہ درجہ چار رکعات ہیں، اس لئے آٹھ رکعتوں کو ترجیح دی گئی ہے،(۲) دس اور بارہ رکعات تک بھی ثبوت ملتا ہے۔

  1. (۱) تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: خیر الفتاویٰ ج:۲ ص:۵۷۲ إلٰی ۵۷۸۔
  2. (۲) أقل التھجد رکعتان وأوسطہ أربع وأکثرہ ثمان۔ (شامی ج:۲ ص:۲۵، کتاب الصلاۃ، مطلب فی صلٰوۃ اللیل)۔ وأیضًا وفی روایۃ: إن صلاتہ باللیل خمس عشرۃ رکعۃ کما قال النووی فی شرح مسلم فأکثرہ خمس عشرۃ برکعتی الفجر اھـ وفی أخری سبع عشرۃ تردد فیھما المحدثون، روی ابن المبارک من حدیث طاؤس مرسلًا: کان یصلی صلی اللہ علیہ وسلم سبع عشر رکعۃ من اللیل اھـ۔ أخرجہ العراقی فی تخریج أحادیث الْإحیاء وفی التلخیص (ص:۱۱۶) وفی حواشی المنذری قیل أکثر ما روی فی صلاۃ اللیل سبع عشـرۃ وھی عـدد رکعـات الیوم واللیلۃ اھـ (معارف السنن للعلّامۃ البنوری ج:۴ ص:۱۳۳ بیان أکثر صلٰوتہ باللیل وأقل ما ثبت، طبع المکتبۃ البنوریۃ کراچی)۔