نمازِتراویح
تراویحکیابتداکہاںسےہوئی؟
سوال:۔
تراویح کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟ کیا بیس رکعت نماز تراویح پڑھنا ہی افضل ہے؟
جواب:۔
تراویح کی ابتدا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی، مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اندیشہ سے کہ یہ فرض نہ ہوجائیں تین دن سے زیادہ جماعت نہیں کرائی، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرداً فرداً پڑھا کرتے تھے اور کبھی دو دو، چار چار آدمی جماعت کرلیتے تھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے سے عام جماعت کا رواج ہوا، اور اس وقت سے تراویح کی بیس ہی رکعات چلی آرہی ہیں، اور بیس رکعات ہی سنتِ مؤکدہ ہیں۔(۱)
- (۱) الأصل فیہ ما روی ان النبی علیہ الصلٰوۃ والسلام خرج لیلۃ فی شھر رمضان فصلّٰی بھم عشرین رکعۃ، واجتمع الناس فی الثانیہ فخرج فصلّٰی بھم، فلما کانت الثالثۃ کثر الناس فلم یخرج، وقال عرفت اجتماعکم لٰـکنی خشیت أن یفترض علیھم، فکان الناس یصلونھا فرادیٰ إلٰی أیام عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ، ثم تقاعدوا عنھا فراٰی أن یجمعھم علٰی إمام واحد فجمعھم علٰی اُبیّ بن کعب، وکان یصلی بھم خمس ترویحات یجلس بین کل ترویحتین فکانت جملتھا عشرین رکعۃ۔ (شرح العنایۃ علٰی ھامش فتح القدیر ج:۱ ص:۳۳۴، وأیضًا الْإختیار لتعلیل المختار ج:۱ ص:۶۸، وأیضًا الفقہ الحنفی وأدلّتہ ج:۱ ص:۲۴۲) مزید تفصیل کے لئے: نماز مسنون کلاں، تالیف: مولانا عبدالحمید سواتی ملاحظہ فرماویں۔

