بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عیدین‌کی‌نماز

اگر‌نمازِ‌عید‌میں‌مقتدی‌کی‌تکبیرات‌نکل‌جائیں‌تو‌نماز‌کس‌طرح‌پوری‌کرے؟

سوال:۔

عید کی نماز میں اگر مقتدی کی آمد دیر میں ہوتی ہے تو ایسی صورت میں کہ زائد تکبیرات نکل جائیں تو مقتدی زائد تکبیریں کس طرح ادا کرے گا؟ اور اگر پوری رکعت نکل جائے تو کس طرح ادا کرے گا؟

جواب:۔

اگر اِمام تکبیرات سے فارغ ہوچکا ہو، خواہ قراءت شروع کی ہو یا نہ کی ہو، بعد میں آنے والا مقتدی تکبیرِ تحریمہ کے بعد زائد تکبیریں بھی کہہ لے اور اگر اِمام رُکوع میں جاچکا ہے اور یہ گمان ہو کہ تکبیرات کہہ کر اِمام کے ساتھ رُکوع میں شامل ہوجائے گا تو تکبیرِ تحریمہ کے بعد کھڑے کھڑے تین تکبیریں کہہ کر رُکوع میں جائے، اور اگر یہ خیال ہو کہ اتنے عرصے میں اِمام رُکوع سے اُٹھ جائے گا تو تکبیرِ تحریمہ کہہ کر رُکوع میں چلا جائے، اور رُکوع میں رُکوع کی تسبیحات کے بجائے تکبیرات کہہ لے، ہاتھ اُٹھائے بغیر، اور اگر اس کی تکبیریں پوری نہیں ہوئی تھیں کہ اِمام رُکوع سے اُٹھ گیا تو تکبیریں چھوڑ دے اِمام کی پیروی کرے، اور اگر رکعت نکل گئی تو جب اِمام کے سلام پھیرنے کے بعد اپنی رکعت پوری کرے گا تو پہلے قراء ت کرے، پھر تکبیریں کہے، اس کے بعد رُکوع کی تکبیر کہہ کر رُکوع میں جائے۔(۱)

  1. (۱) ولو أدرک المؤتم الْإمام فی القیام بعد ما کبّر کبّر فی الحال برأی نفسہ لأنہ مسبوق ولو سبق برکعۃ یقرأ ثم یکبّر لئلا یتوالی التکبیر فلو لم یکبّر حتی رکع الْإمام قبل أن یکبوا المؤتم لَا یکبّر فی القیام ولٰـکن یرکع ویکبّر فی الرکوع علی الصحیح۔ (الدرالمختار مع الرد ج:۲ ص:۱۷۴، باب العیدین)۔