بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

عیدین‌کی‌نماز

نمازِ‌عید‌مسجد‌میں‌پڑھنا‌کیوں‌مکروہ‌ہے؟

سوال:۔

آپ کی کتاب ’’آپ کے مسائل اور اُن کا حل‘‘ جلد دوم میں شائع شدہ مسئلے کے مطابق کسی نے آپ سے سوال پوچھا ہے کہ نمازِ عید کا مسجد میں پڑھنا کیسا ہے؟ آپ نے اس کا جواب دیا ہے کہ بغیر عذر کے عید کی نماز مسجد میں پڑھنا مکروہ ہے۔ میں یہ تفصیل جاننا چاہتی ہوں کہ کس وجہ سے عید کی نماز مسجد میں پڑھنا مکروہ ہے؟

جواب:۔

مسجدیں نمازِ پنج گانہ کے لئے تعمیر کی گئی ہیں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نمازِ عید اور نمازِ جنازہ کے لئے الگ جگہیں تھیں، بغیر ضرورت کے یہ نمازیں مسجد میں نہیں پڑھی جاتی تھیں، اور ضرورت یہ ہے کہ مثلاً: بارش ہو رہی ہو اور کوئی جگہ ایسی نہ ہو جس میں آدمی نمازِ عید پڑھ سکے، یا کوئی اور ایسا عذر ہو، اس عذر کی بنا پر عید کی نماز مسجد میں پڑھنا صحیح ہے۔ حرمین شریفین میں اتنا مجمع ہوتا ہے کہ اس مجمع کو کسی اور جگہ منتقل کرنا قریب قریب ناممکن ہے، اس لئے وہاں دونوں جگہ عید اور جنازے کی نماز مسجد میں پڑھی جاتی ہے، اور یہ کافی عذر ہے۔(۱)

  1. (۱) وفیہ الخروج إلی المصلی فی العید، وان صلاتھا فی المسجد لَا تکون إلّا عن ضرورۃ۔ (فتح الباری ج:۲ ص:۵۷۲، کتاب العیدین، باب الخروج إلی المصلی، طبع قدیمی کتب خانہ)۔