بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جمعہ‌کی‌نماز

پیٹ‌میں‌درد‌یا‌پیشاب‌کا‌تقاضا‌ہو‌تو‌کیا‌کرے؟

سوال:۔

دورانِ خطبہ جمعہ کسی شخص کو پیٹ میں ہوا یا پیشاب کی شدّت محسوس ہو، اَب اگر وہ شخص قضائے حاجت سے فارغ ہوکر وضو کرنے تک وقت لگائے تو نمازِ جمعہ ادا ہوجاتی ہے، بعد میں اس کو نمازِ ظہر پڑھنا پڑے گی، پوچھنا یہ مقصود ہے کہ اگر وہ شخص پیٹ کی ہوا، شدّتِ پیشاب پر کنٹرول کرکے نمازِ جمعہ جماعت کے ساتھ ادا کرلے یا فراغت کے بعد سکون سے نمازِ ظہر پڑھنا بہتر ہے؟ نیز پیشاب کی شدّت کے وقت نماز پڑھنا مکروہِ تنزیہی ہے یا مکروہِ تحریمی؟

جواب:۔

اگر پیشاب یا پاخانے کا شدید تقاضا ہو تو پہلے اس سے فارغ ہولینا ضروری ہے، بعد میں اگر جمعہ نہ ملے تو ظہر پڑھ لے، ایسے شدید تقاضے کی حالت میں نماز مکروہِ تحریمی ہے۔(۱)

  1. (۱) وصلاتہ مع مدافعۃ الأخبثین أی البول والغائط قال فی الخزائن سواء کان بعد شروعہ أو قبلہ فإن شغلہ قطعھا إن لم یخف فوت الوقت وأتمھا أثم ۔۔۔ وما ذکرہ من الْإثم صرح بہ فی شرح المنیۃ، وقال لأدائھا مع الکراھۃ التحریمیۃ۔ (ردالمحتار علی الدر المختار ج:۱ ص:۶۴۱، مطلب فی الخشوع، باب ما یفسد الصلاۃ وما یکرہ فیھا، طبع سعید کراچی)۔ أیضًا: وتکرہ ۔۔۔ (ومدافعًا لأحد الأخبثین) البول والغائط (أو الریح) ولو حدث فیھا، لقولہ علیہ السلام: لَا یحل لأحد یؤمن باللہ والیوم الآخر أن یصلی وھو حاقن حتّٰی یتخفف۔ (مراقی الفلاح علٰی ھامش الطحطاوی ص:۱۹۷، باب ما یفسد الصلاۃ، فصل فی المکروھات)۔