جمعہکینماز
لاؤڈاسپیکرپرخطبہونمازکاشرعیحکم
سوال:۔
ہمارے ہاں بعض مساجد میں خطبۂ جمعہ اور نماز میں لاؤڈاسپیکر کے اِستعمال نہ کرنے کی سختی سے پابندی کی جاتی ہے، بالخصوص رائے ونڈ کے مرکز تبلیغ میں جہاں ہر نماز میں ہزاروں آدمی ہوتے ہیں، اور نمازِ جمعہ میں تو میرے اندازے کے مطابق چار پانچ ہزار اَفراد شامل ہوتے ہیں، اور اگلی دو تین صفوں کے بعد پچھلوں کو نہ خطبہ سنائی دیتا ہے، نہ اِمام صاحب کی تکبیرات اور قراء ت، کیا لاؤڈاسپیکر پر خطبہ ونماز جائز نہیں؟ اگر واقعی ایسا ہے تو ملک بھر کے علمائے کرام اس کا اِستعمال کر رہے ہیں جو چیز ناجائز ہے، اس کے عدمِ جواز پر سب متفقہ فیصلہ اور عمل کیوں نہیں کرتے؟ اور اس کے ناجائز ہونے کی وجہ کیا ہے؟ نیز یہ کہ اگر یہ ناجائز ہے تو کیا علماء کا فرض نہیں بنتا کہ حرمین شریفین زادہما اﷲ شرفاً کے علماء کو بھی اس کے عدمِ جواز کا قائل کریں جو کہ لاؤڈاسپیکر سے بھی آگے گزرگئے ہیں اور ان کی نماز ہم براہِ راست حرم شریف سے بذریعہ ریڈیو سنتے ہیں۔
جواب:۔
لاؤڈاسپیکر پر خطبہ اور نماز جائز ہے، اس میں کوئی شبہ نہیں، لیکن بعض اکابر کو اس میں شبہ رہا، اس لئے وہ اس سے اِحتیاط کرتے ہیں۔(۱) رائے ونڈ کے حضرات کا بھی غالباً یہی موقف ہوگا کہ جس چیز میں بعض حضرات کو شبہ ہے اس کو کیوں اِستعمال کیا جائے، اس قسم کے اِختلافات کو اُٹھانا مشکل ہوتا ہے، اس لئے رفع اِختلافات کے ذکر میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔
- (۱) تفصیل کے لئے دیکھئے: آلاتِ جدیدہ ص:۳۴، از حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ۔

