بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جمعہ‌کی‌نماز

کیا‌جمعہ‌کے‌دن‌زوال‌نہیں‌ہوتا؟

سوال:۔

یکم اگست بروزِ جمعہ کے اخبار میں آپ کے مسائل میں ایک سوال تھا کیا جمعہ کے دن زوال کے وقت میں سجدہ یا قضا نماز ناجائز ہے؟ آپ کا جواب تھا: جی ہاں ناجائز ہے۔ آپ سے مؤدّبانہ عرض ہے کہ میں نے ایک کتاب میں پڑھا تھا کہ جمعہ کے دن زوال نہیں ہوتا، وجہ یہ لکھی تھی کہ ہر روز دوزخ کی آگ جب تیز کی جاتی ہے تو اسے وقتِ زوال کہتے ہیں، اور جمعہ کے دن دوزخ کی آگ بھڑکائی نہیں جاتی، اس لئے جمعہ کو زوال نہیں ہوتا۔ اس بات کی تصحیح کردیں کہ جو کچھ میں نے پڑھا ہے وہ دُرست ہے یا نہیں؟ اور کیا یہ بات دُرست ہے کہ زوال کا وقت ہر روز یکساں نہیں ہوتا؟ کیا زوال کے وقت صرف نفلی نماز ناجائز ہے؟ یا تلاوتِ قرآن، سجدۂ قرآن یا نمازِ جنازہ بھی ناجائز ہے؟

جواب:۔

یہ بات غلط ہے کہ جمعہ کے دن زوال نہیں ہوتا۔ اِمام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک جس طرح دُوسرے دنوں میں نصف النہار کے وقت نماز جائز نہیں، سجدۂ تلاوت جائز نہیں، اسی طرح جمعہ کے دن بھی جائز نہیں۔(۱)

  1. (۱) ثلاث ساعات لَا تجوز فیھا المکتوبۃ ولَا صلاۃ الجنازۃ ولَا سجدۃ التلاوۃ ۔۔۔ وعند الْإنتصاف إلٰی أن تزول ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۵۲، کتاب الصلاۃ، الباب الأوّل فی المواقیت وما یتصل بھا)۔