جمعہکینماز
چھوٹےبچوںکومسجدمیںلاناجولوگوںکینمازخرابکریں
سوال:۔
عام طور سے یہ دیکھا گیا ہے کہ جمعہ کے جمعہ نماز پڑھنے والے لوگ اپنے ساتھ ڈھائی تین سال تک کے بچوں اور بچیوں کو بھی مسجد لاتے ہیں، گویا کوئی میلہ یا تماشا دیکھنے آئے ہیں، چونکہ یہ بچے آدابِ مسجد اور نماز سے قطعی ناواقف ہوتے ہیں، لہٰذا دورانِ نماز اپنی بچکانہ حرکتوں کی وجہ سے دُوسروں کی نماز کی ادائیگی میں خلل انداز ہوتے ہیں، معلوم کرنا یہ ہے کہ ان چھوٹے بچوں کو مسجد میں لانا چاہئے یا نہیں؟ اور اگر ان کی وجہ سے کسی کی نماز میں کوتاہی یا خامی واقع ہوتی ہے تو اس کی جزا اور سزا کس پر لازم آتی ہے؟ یعنی معصوم بچے پر، اسے لانے والے پر، یا خود نمازی پر؟
جواب:۔
اتنے چھوٹے بچوں کو مسجد میں نہیں لانا چاہئے، اس کی ممانعت آتی ہے، اگر ایسے بچوں کی وجہ سے لوگوں کی نماز خراب ہوتی ہو تو لانے والوں پر اس کا وبال ہوگا۔(۱)
- (۱) روی عبدالرزاق ۔۔۔ عن معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: جنبوا مساجدکم صبیانکم ومجانینکم وشرائکم ۔۔۔إلخ۔ (حلبی کبیر، فصل فی أحکام المساجد، ص:۶۱۱، طبع سھیل اکیڈمی)۔

