جمعہکینماز
جمعہکےدنعیدہوتببھینمازِجمعہپڑھیجائےگی
سوال:۔
گزشتہ عیدالفطر کے موقع پر ایک مولوی صاحب نے ایک مسئلہ بیان کیا کہ اجتماعِ عیدین کی صورت میں (یعنی اگر عید اور جمعہ ایک ہی دن واقع ہوں) جو لوگ صلوٰۃِ جمعہ نہ پڑھ سکیں ان پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ اس مسئلے کے بیان ہونے کے بعد عام لوگوں نے اس رعایت سے خوب فائدہ اُٹھایا۔ یعنی ڈٹ کر عید منائی اور جمعہ کی نماز کے لئے نہ آئے۔ تاہم جو لوگ نماز کے زیادہ پابند تھے وہ آئے، مگر وہ تھے ہی کتنے؟ نمازیوں کی تعداد بیس افراد تک محدود ہوکر رہ گئی، حالانکہ عموماً یہاں ایک جمِ غفیر ہوتا ہے، ان نمازیوں کے دِل و دماغ میں ایک اُلجھن پیدا ہوئی جس کے ازالے کی کوششیں کی گئیں، اور اب تک جس عالم سے پوچھا گیا اس نے اس مسئلے کی تردید کی، صرف یہی نہیں بلکہ بعض کتب کو بھی کھنگالا گیا اس میں زیادہ تر یہی رائے نظر آئی کہ نماز میں چھوٹ نہیں دی جاسکتی، اور اِمام ابوحنیفہؒ بھی واضح طور پر اس بیان کردہ مسئلے کے خلاف نظر آتے ہیں، یعنی وہ جمعہ اور عید کی نماز کی فرضیت/ واجبیت کو برقرار رکھنے کے حق میں ہیں۔
جواب:۔
نمازِ عید واجب ہے،(۱) اور جمعہ کی نماز فرضِ عین ہے،(۲) ایک واجب، فرضِ عین کے قائم مقام کیسے ہوسکتا ہے؟ پھر عید کی نماز کا وقت زوال سے پہلے ہے،(۳) اور جمعہ زوال کے بعد فرض ہوتا ہے، جو نماز زوال سے پہلے ادا کی گئی ہو وہ جمعہ کے قائم مقام کیسے ہوسکتی ہے؟(۴) اس لئے جمہور ائمہ کے نزدیک عید کی نماز سے جمعہ کی نماز ساقط نہیں ہوگی۔ اِمام ابوحنیفہؒ، اِمام مالکؒ، اِمام شافعیؒ اس کے قائل ہیں، جن روایات سے یہ شبہ ہوتا ہے کہ عید کی نماز سے جمعہ ساقط ہوجاتا ہے، وہ شہریوں کے بارے میں نہیں بلکہ دیہات والوں کے بارے میں ہیں،(۵) یعنی دیہات کے جو لوگ عید کی نماز کے لئے شہر آئے ہوئے ہوں، وہ اگر وقتِ جمعہ سے پہلے واپس جانا چاہیں تو جاسکتے ہیں (وہ بھی اپنے گھر جاکر ظہر کے وقت ظہر کی نماز پڑھیں)، چنانچہ بعض روایات میں تو اس کی صاف صراحت موجود ہے، اور بعض میں اگرچہ صراحت نہیں، مگر وہ اسی پر محمول ہیں، بہرحال ان اِمام مولوی صاحب کا فتویٰ بڑا غلط ہے، اور غیرذمہ دارانہ ہے، لوگوں کے ترکِ جمعہ کا وبال اس کی گردن پر ہوگا۔
- (۱) وتجب صلاۃ العیدین علٰی أھل الأمصار کما تجب الجمعۃ۔ (بدائع الصنائع ج:۱ ص:۲۷۵، کتاب الصلاۃ)۔
- (۲) إن الجمعۃ فریضۃ محکمۃ بالکتاب والسُّنّۃ والْإجماع یکفر جاحدھا۔ (فتح القدیر ج:۱ ص: ۴۰۷)۔
- (۳) وقت صلاۃ العیدین حین تبیض الشمس إلٰی أن تزول۔ (بدائع الصنائع ص:۲۷۶، کتاب الصلاۃ)۔
- (۴) قال: ولَا تجزیٔ الجمعۃ إلّا فی وقت الظھر وذالک لأن فرض الجمعۃ لما کان مجملًا فی الکتاب مفتقرًا إلی البیان، ثم لم یرد عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم فعلھا إلّا فی وقت الظھر صار فعلہ لھا علٰی ھٰذا الوجہ علی الوجوب۔ (شرح مختصر الطحاوی ج:۲ ص:۱۲۲، ۱۲۳، کتاب الصلاۃ، وقت الجمعۃ)۔
- (۵) قال أکثر الفقھاء: تجب الجمعۃ لعموم الآیۃ والأخبار الدالۃ علٰی وجوبھا، ولأنھما صلاتان واجبتان فلم یسقط أحدھما بالأخریٰ قال ابن عبدالبر سقوط الجمعۃ بالعید مھجور وعن علی رضی اللہ عنہ أن ذٰلک فی أھل البادیۃ ومن لَا تجب علیہ الجمعۃ۔ (معارف السنن ج:۴ ص:۴۳۲، أیضًا: إعلاء السنن ج:۸ ص:۷۴، باب إذا اجتمع العید والجمعۃ لَا تسقط الجمعۃ بہ)۔

