جمعہکینماز
جمعۃالوداعکےبارےمیں
سوال:۔
جمعۃ الوداع کی فضیلت کی کیا وجوہات ہیں؟ حالانکہ رمضان المبارک کے تو ہر جمعہ کو اپنے اندر ایک خصوصیت و فضیلت حاصل ہے، براہِ کرم اس سلسلے میں تفصیلی جواب عنایت فرمائیں، تاکہ اس کی اہمیت کا اندازہ ہوسکے۔
جواب:۔
عوام میں رمضان المبارک کا آخری جمعہ بڑی اہمیت کے ساتھ مشہور ہے ، اور اس کو ’’جمعۃ الوداع‘‘ کا نام دیا جاتا ہے، لیکن احادیثِ شریفہ میں ’’آخری جمعہ‘‘ کی کوئی الگ خصوصی فضیلت ذکر نہیں کی گئی، بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ آخری جمعہ یا جمعۃ الوداع کا جو تصوّر ہمارے یہاں رائج ہے، حدیث شریف میں اس کا ذکر نہیں ملتا۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ رمضان کے آخری جمعہ کا نام ’’آخری جمعہ‘‘ یا ’’جمعۃ الوداع‘‘ کب سے جاری ہوا؟ اور یہ نام کیوں رکھا گیا؟ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ مشکوٰۃ شریف کی ایک حدیث میں آتا ہے کہ: ’’رمضان المبارک کے ختم ہونے کے بعد سے (یعنی عید کے دن سے) اگلے رمضان المبارک کے لئے جنت کو آراستہ کرنا شروع کردیا جاتا ہے۔‘‘(۱)
یہ روایت کمزور ہے، لیکن اس حدیث کے مطابق گویا جنت اور اہلِ جنت کا نیا سال عیدالفطر کے دن سے شروع ہوتا ہے، اور رمضان المبارک پر ختم ہوتا ہے، اس لئے گویا جنت کی تقویم کے مطابق ماہِ رمضان المبارک سال کا آخری مہینہ ہے، اور اس کا آخری جمعہ سال کا آخری جمعہ ہے۔ (واللہ اعلم!) اور یہ بھی ممکن ہے کہ آخری جمعہ کے بعد رمضان المبارک کے ختم ہونے میں ہفتے سے کم دنوں کا وقفہ رہ جاتا ہے، اس لئے آخری جمعہ گویا ماہِ مبارک کے فراق و وداع کی علامت ہے، اور یہ کچھ خبر نہیں کہ آئندہ یہ سعید گھڑیاں کس کو نصیب ہوتی ہیں۔ بعض لوگوں کی عادت ہے کہ وہ آخری جمعہ کے خطبہ میں رمضان المبارک کے فراق و وداع کے مضامین بڑے رقت آمیز انداز میں بیان کرتے ہیں، لیکن حضراتِ فقہاء نے آخری جمعہ میں فراق و وداع کے مضامین بیان کرنے کو مکروہ لکھا ہے، مولانا زوّار حسین مجددی نقشبندیؒ اپنی کتاب ’’زبدۃ الفقہ‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’رمضان المبارک کے آخری جمعہ کے خطبہ میں وداع و فراق کے مضامین پڑھنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم و اصحابِ کرام رضی اللہ عنہم و سلف صالحین سے ثابت نہیں ہے، اگرچہ فی نفسہٖ مباح ہے، لیکن اس کے پڑھنے کو ضروری سمجھنا اور نہ پڑھنے والے کو مطعون کرنا بُرا ہے،، اور بھی کئی بُرائیاں ہیں، ان خرابیوں کی وجہ سے ان کلمات کا ترک لازمی ہے، تاکہ ان خرابیوں کی اصلاح ہوجائے۔‘‘ (زبدۃ الفقہ ج:۲ ص:۲۰۶)
- (۱) وعن ابن عمر رضی اللہ عنہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: إن الجنّۃ تزخرف رمضان من رأس الحول إلٰی حول قابل قال فإذا کان أوّل یوم من رمضان ھبّت ریح تحت العرش من ورق الجنۃ ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ ص:۱۷۴، الفصل الثالث) وفی المرقاۃ: ولَا یبعد ان یجعل رأس الحول مما بعد رمضان ولعلہ اصطلاح أھل الجنان ویناسبہ کونہ یوم عید وسرور ودقت زینۃ وحبور ثم رأیت ابن حجر قال لعل المراد ھنا بالحول بأن تبتدیٔ الملائکۃ فی تزینھا أوّل شوّال وتستمر إلٰی أوّل رمضان ففتح أبوابھا ۔۔۔ قال ابن خزیمۃ فی القلب من جرید بن أیوب یعنی أحد رواتہ شیء قال المنذری وجری بن أیوب البجلی واہ واللہ أعلم أقول وللحدیث شاھد آخر من حدیث ابن عباس أخرجہ أبو الشیخ فی کتاب الثواب والبیھقی أیضًا قال المنذری ولیس فی اسنادہ ممن أجمع علٰی ضعفہ فاختلاف طرق الحدیث یدل علٰی أنہ لہ أصلًا۔ (مرقاۃ شرح المشکٰوۃ ج:۲ ص:۵۰۱)۔

